۱؎ برے اخلاق سے مراد باطنی و اندرونی اعمال ہیں جو خلاف شرع ہوں جیسے بدعقیدگی،حسد،کینہ وغیرہ اور برے اعمال سے وہ ظاہری اعمال ہیں جو خلاف شریعت ہیں جیسے زنا،چوری،جھوٹ،غیبت وغیرہ اور بری خواہشوں سے مراد برائیوں کی طرف دل کا میلان ہے۔ھویٰ کے لغوی معنی ہیں محبت،بری چیز سے ہو یا اچھی سے پہلی ھویٰ بری ہے دوسری اچھی مگر اس کا اکثر استعمال بری رغبتوں میں ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَن٫ْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ"۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ھویٰ ھدیٰ سے مل جائے تو ایسی ہے جیسے شہد اور مکھن ملا ہو ا کبھی بر ے عقیدوں کو بھی ھویٰ کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ"۔