۱؎ برص یا تو جسم کے سفید داغ ہیں اور جسم میں سودا پھیل کر جو اعضاء کی اصل صورت بدل دے جس سے کبھی انگلیاں جھڑ جاتی ہیں،جسم پر پھوڑےپھیل جاتے ہیں یہ جذام ہے یعنی کوڑھ اور عقل کا جاتا رہنا یا بگڑ جاناجنون ہے،چونکہ برص و جذام میں تکلیف بھی ہے اور لوگوں کی نفرت بھی جن کی وجہ سے انسان بہت سی عبادات سے محروم ہوجاتا ہے اور عقل بگڑ جانے پر آدمی برے بھلے میں تمیز نہیں کر تا اس لیے ان بیماریوں سے پناہ مانگی۔
۲؎ جیسے استسقاء،سل،دق اور وہ لمبی بیماریاں جن میں انسان صبر نہیں کرسکتا،لوگوں پربوجھ بن جاتا ہے،لوگ اس سے گھبرا کر اس کی موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں،بندہ ان کی وجہ سے حقوق اﷲ و حقوق العباد ادا کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔اﷲ تعالٰی چلتے ہاتھ پاؤں اٹھالے آمین ۔خیال رہے کہ یہ دعا ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ تمام انبیاءکرام حضور سید الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ان امراض سے محفوظ ہیں۔بعض لوگ جذام کو متعدی بیماری سمجھتے ہیں یعنی اڑ کر لگنے والی،اس کی تحقیق ان شاءاﷲ "لا عدویٰ"کی شرح میں ہوگی۔