۱؎ فقیری سے مراد یا دل کی فقیری ہے یعنی قناعت نہ ہونا یا مال کی فقیری جو کفر یا گناہوں تک پہنچادے اور کمی سے مراد نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی کمی یا مسلمانوں کی تعداد کی کمی ہے،ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مال و اسباب کی زیادتی پسند نہ فرماتے تھے۔(مرقات)ذلت سے مراد لوگوں کی نگاہ میں حقارت ہے یا مالداروں کے سامنے عاجزی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ فقر کے معنی ہیں پیٹھ توڑنے والی چیز،فقار پیٹھ کے جوڑ،یہ چار قسم کا ہے:(۱) ایک حاجتوں اور ضرورتوں کا پیش رہنا،یہ سارے انسانوں کو ہے ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ"(۲)دوسرا ضروریات کا پورا نہ ہونا جس سے انسان زکوۃ لینے کے قابل ہوجاتا ہے،ر ب تعالٰی فرماتاہے:"لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا"یا فرماتا ہے:"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ"۔(۳)تیسرے دل کی ہوس۔(۴)چوتھے رب کی طرف محتاجی۔حضور علیہ السلام نے تیسرے قسم کے فقر سے پناہ مانگی ہے اور چوتھے فقر میں یہ فرق ہے کہ پہلا اضطراری ہے اور چوتھا اختیاری جو انبیاء اور خاص اولیاء کو حاصل ہوتا ہے۔
۲؎ اس طرح کہ میں اپنے نفس پر ظلم کروں یا نفس مجھ پر یا میں دوسروں پر ظلم کروں دوسرے مجھ پر ظلم بمعنی حق مارنا۔