روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں چار چیزوں سے تیری پناہ لیتا ہوں ۱؎ اس علم سے جو نفع نہ دے ۲؎ اس دل سے جس میں عجز نہ ہو ۳؎ اس نفس سے جو سیر نہ ہو ۴؎ اس دعا سے جو سنی نہ جائے ۵؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے اسے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کیا اور نسائی نے ان دونوں صاحبوں سے۔
شرح
۱؎ ان چار کا ذکر حصر کے لیے نہیں بلکہ اظہار اہمیت کے لیے ہے یعنی تمام نقصان دہ چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں،خصوصًا ان چاروں سے کہ ان کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ۲؎ اس طرح کہ وہ علم ہی مضر ہو جیسے جادو وغیرہ کا علم یا غیر مفید ہو جیسے غیرضروری علوم یا علم بذات خود تو مفید ہو مگر میں اس سے فائدہ نہ اٹھاؤں جیسے علم دین جو محض دنیا کمانے کے لیے سیکھا جائے لیکن اس پر عمل نہ کیاجائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم باعمل کل ہمارا گواہ ہوگا اور علم بے عمل ہمارا خلاف گواہ ۔خیال رہے کہ کوئی علم بذاتِ خود برا نہیں بلکہ نتیجہ اور نیت کے لحاظ سے برا بن جاتا ہے،اگر کوئی علم بذات خود برا ہوتا تو پروردگار کو نہ ہوتا لہذا اس دعا سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور علیہ السلام کو بعض علوم نہ تھے۔سب سے بدتر چیزیں کفر اور جادو ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ ان کا سیکھنا کبھی فرض ہے بچنے کے لیے۔ ۳؎ عاجز دل زرخیز زمین کی طرح ہے جس میں پیداوار خوب ہوتی ہو اور سخت دل اس پتھر یلے علاقہ کی طرح ہے جس میں بکھیرا ہوا بیج بکادر جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَوَیۡلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکْرِ اللہِ"۔ ۴؎ یعنی دنیا سے سیر نہ ہو جیسے استسقاء کی بیماری والا پانی سے سیر نہیں ہوتا،آخرت کی نیکیوں سے سیر نہ ہونا خدا کی رحمت ہے۔شعر حاجتے نیست مرا سیرازیں آبِ حیات ضاعف اﷲ علی کل زمان عطشی ہمارے حضور ہمیں دینے سے سیر نہیں ہوتے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"تو ہم ان سے لینے سے کیوں سیر ہوں۔ ۵؎ یعنی بارگاہِ الٰہی میں قبول نہ ہوکیونکہ مردود دعا کبھی دعا کرنے والے کی مردودیت کی علامت ہوتی ہے۔خیال رہے کہ انبیائے کرام کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی،ہاں کبھی انہیں دعا سے روک دیا جاتا ہے،دعا سے روکنا اور ہے اور رد کرنا کچھ اور۔
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے،بزدلی سے،بخل سے،بری عمر سے ۱؎ سینوں کے فتنوں اور قبر کے عذاب سے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)