| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہتے تھے الٰہی میں تیرا مطیع ہوا تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا ۱؎ اور تیری طر ف رجوع کیا اور تیرے بھروسہ پر کفار سے جھگڑتا ہوں ۲؎ الٰہی میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں،تیرے سوا کوئی معبود نہیں اس سے کہ تو مجھے گمراہ کرے ۳؎ تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں اور تمام جن و انسان مرجائیں گے ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ظاہری اطاعت کو اسلام اور باطنی فرمانبرداری کو ایمان فرمایا گیا ہے یعنی الٰہی میرا ظاہر و باطن،قالب و قلب تیرا مطیع ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو حقیقت بیان فرمارہے ہیں،ہم گنہگار یہ دعا حضور کی نقل کرتے ہوئے پڑھیں ہمیں خود اپنا پتہ ہے کہ کتنے درجے سے مطیع ہیں خدا کرے اصل کی برکت نقل پر بھی آجائے۔ ۲؎ یعنی خدایا میں اپنی قوت و طاقت یا فوج و ہتھیار کے بھروسہ پر جہاد نہیں کرتا صرف تیرے بھروسہ پر کرتا ہوں یہ توکل و ہ قوت ہے جو کفار کے پاس نہیں صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ ۳؎ سبحان اﷲ! کیا پیاری عرض ہے۔یعنی مولٰی عزت والے آقا اپنے غلاموں کو ذلیل نہیں ہونے دیتے،تجھے اپنی عزت و غلبہ کا واسطہ کہ مجھے ذلت کے اسباب یعنی گمراہی وغیرہ سے بچالے۔ ۴؎ اس جملہ میں مسلمان کا رد ہے جو مصیبتوں میں جنات کی پناہ لیتے تھے خصوصًا بحالت سفر جب کسی منزل پر ٹھہرتے یعنی فانی کی پناہ بھی فانی ہے باقی کی پناہ بھی باقی،تیری پناہ دنیا و آخرت ہر جگہ کام آئے گی۔خیال رہے کہ سردی گرمی میں لباس و مکان کی پناہ بیماری میں حکیم کی،مظلومیت میں حاکم کی،معصیت میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی پناہ اس دعا کے خلاف نہیں کہ یہ تمام چیزیں رب تعالٰی ہی کے مقرر کردہ اسباب ہیں،ان کی پناہ رب تعالٰی کی پناہ ہے۔مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر یارسول اﷲ بدرگاہت پناہ آوردہ ام ہمچو کا ہے آمدم ہے گناہ آوردہ ام