۱؎ یعنی جو برائیاں میں کرچکا ہوں ان کی شر سے بچالے کہ ان کی معافی دے دے اور جو برائیاں ابھی نہیں کی ہیں آئندہ کرنے والا ہوں ان کی شر سے بچالے کہ ان کے نہ کرنے کی توفیق دے یا جو مصیبتیں خود میرے کیے سے آتی ہیں ان سے بچا اور جو ایک کے کرنے سے ساری قوم پر آتی ہیں نہ کرنے والے بھی رگڑے جاتے ہیں ان سے بچا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً"یا مجھے ناکردہ گناہوں کی مصیبت سے بچا کہ شبہ میں گرفتار بلا ہوجاؤں،اس جملہ کی اور بھی تفسیریں ہوسکتی ہیں۔