| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعاؤں سے یہ تھی الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہوجانے سے اور تیری عافیت کے منقلب ہوجانے سے ۱؎ اور تیرے اچانک عتاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ زوال و انقلاب میں فرق یہ ہے کہ نعمت کا چھن جانا زوال ہے اور نعمت کے عوض نقمت و مصیبت آجانا انقلاب۔نعمت سے مراد اسلام،ایمان،تندرستی،غنا وغیرہ تمام دینی و دنیاوی نعمتیں ہیں،اﷲ تعالٰی دے کر نہ لے وہ تو نہیں چھینتا ہم اپنی بدعملیوں سے زائل کردیتے ہیں"اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ"۔ ۲؎ یعنی خدایا ہمیں ایسے کاموں سے بچا جو تیری ناراضی کا باعث ہیں ۔