Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
74 - 671
باب الاستعاذۃ

تعویذوں کا باب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ یعنی ان دعاؤں کا باب جن میں اعوذ یا استعیذ آتا ہے عوذ کے معنی ہیں پناہ،استعاذہ کے معنی پناہ لینا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ"۔تلاوت قرآن کے وقت اعوذ پڑھنا سنت ہے ویسے بھی مصیبتوں اور عام حالات میں پناہ لینے کی دعا میں پڑھتے رہنا چاہیے،صبح سورۂ فلق و ناس پڑھنے سے آفات سے امن رہتی ہے۔
حدیث نمبر74
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ کی پناہ مانگو آفت کی مشقتوں سے  ۱؎ اور بدبختی کے پہنچنے سے اور برے فیصلے سے ۲؎ اور دشمنوں کے طعنوں سے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آفتوں کی مشقت سے مراد وہ دنیاوی یا دینی مصیبتیں ہیں جن کے دفع پر انسان قادر نہ ہو حضرت عبداﷲ ابن عمر فرماتے ہیں کہ کثرت عیال و قلت مال جہد بلا ہے کہ اس سے انسان کبھی کفر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔حدیث شریف میں ہے"کاد الفقر ان یکون کفرًا"۔

۲؎ دوزخ کے کام کر بیٹھنا درک شااء ہے اصل بدبختی دوزخ کا داخلہ ہے دوزخی عرض کریں گے"رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیۡنَا شِقْوَتُنَا"اور  دوزخ میں پہنچانے والے عقیدے یا اعمال اختیار کرلینا شارء بدبختی کا پانا ہے۔اس سے اﷲ کی پناہ!بُرے فیصلہ سے مراد ہے کفر پر مرنے کا فیصلہ یعنی میرے مولا میں دوزخیوں کے کاموں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں کہ تو میری بدکاریوں کی وجہ سے میرے دوزخی ہونے کا فیصلہ کردے۔اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ فیصلہ الٰہی تو پہلے ہوچکا اب اس سے پناہ مانگنے کے کیا معنی کیونکہ یہاں وہ فیصلہ مراد نہیں۔

۳ ؎یعنی مولٰی مجھے ایسی دینی و دنیاوی مصیبتوں میں نہ پھنسا جن سے میرے دشمن خوش ہوں اور مجھ پر طعنے کریں،آوازے کسیں،اس سے بھی تیری پناہ ،یہ دعا بہت جامع ہے۔
Flag Counter