Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
73 - 671
حدیث نمبر73
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب بازار میں داخل ہوتے تو کہتے اﷲ کے نام سے الٰہی میں تجھ سے اس بازار کی خیر اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں ۱؎  ا ور اس بازار کی شر اور جو اس میں ہے اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۲؎  الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے  کہ گھاٹے کا سودا کروں۳؎ (بیہقی دعوات کبیر)
شرح
۱؎ نفعے کے سود ے حلال روزی اور دل میں غفلت کا نہ پیدا ہونا بازار کی خیر ہے،یہ تمام چیزیں رب تعالٰی سے مانگے،بازار ہی سے قوم و ملک کا بقا ہے۔

۲؎ نقصان کی تجارت،حرام روزی،وہاں جھوٹ بول کر سودے بیچنا،غافل ہوجانا،بازار کی شر ہے اس لیے بازار کو  بدترین جگہ فرمایا گیا۔

۳؎ دینی گھاٹا یا دنیاوی گھاٹا دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی سے پناہ مانگنی چاہیے صدقہ و خیرات نافع ہے مگر مہنگی چیز بیچنا یا سستی فروخت کردینا گھاٹا کھا کر حماقت بھی ہےاور باعث نقصان بھی جس کا نہ دنیا میں نفع ہے نہ آخرت میں۔اسے حاکم اور ابن سنی نے بھی روایت کیا۔
Flag Counter