| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتاہوں،رنج و غم سے عاجزی و سستی سے اور بزدلی و کنجوسی سے،قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۱؎ (مسلم،بخاری)۲؎
شرح
۱؎ ان الفاظ کی شرح اور رنج و غم کا فرق پہلے باب میں عرض کیا گیا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ قرض کی فکر عقل خراب کردیتی ہے۔ حدیث شریف میں"اَلدَّیْن شَیْنُ الدِّیْن"قرض دین کا عیب ہے۔(مرقات) لوگوں سے مراد ظالم یا قرض خواہ ہیں۔یہ دعا بھی بہت جامع ہے کہ اس میں خارجی داخلی مصیبتوں اور جسمانی روحانی اذیتوں سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔ ۲؎ اس حدیث کو ابوداؤد،ترمذی،نسائی نے بھی روایت کیا،حصن حصین شریف میں یہ حدیث صرف بخاری کی قرار دی۔واﷲ اعلم!