| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے خندق کے دن عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا کوئی وظیفہ ایسا ہے جو ہم پڑھیں دل گلوں میں پہنچ گئے ۱؎ فرمایا ہاں اے اﷲ ہمارے عیب ڈھک لے ہمارے خوفوں کو امن میں بدل دے ۲؎ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے ہوا کے ذریعہ اپنے دشمنوں کے منہ پھیر دیے،اﷲ نے انہیں ہوا کے ذریعے بھگادیا۳؎ (احمد)
شرح
۱؎ یعنی جنگ احزاب کے موقع پر ہم خندق کھودنے میں مشغول تھے بھوک و خوف سے پریشان تھے،بیرونی اندرونی دشمنوں سے بہت تنگ آچکے تھے تب یہ عرض کیا۔معلوم ہوا کہ اپنے رنج و غم حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کرنا نہ تو شرک و کفر ہے نہ بے صبری،اگر مریض حکیم سے شکایت نہ کرے تو شفا کیسے پائے۔ ۲؎ یہاں عیب سے مراد گناہ نہیں بلکہ دشمن کا خوف اور دل کی گھبراہٹ ہے جس کا اظہار نہیں کیا جاتا تاکہ دشمن دلیر نہ ہوجائے یعنی ہماری موجودہ کمزوری چھپالے،دشمن اس پر مطلع نہ ہونے پائے اور گھبراہٹ کے اسباب دور فرما کر دلوں میں امن پیدا فرمادے۔ خیال رہے کہ امن اﷲ کی بڑی نعمت ہے۔ ۳؎ سبحان اﷲ! یہ ہوا اس دعا کا اثر کہ رب تعالٰی نے ابابیل سے فیل مروا دیئے،تیز ہوا سے اتنے بڑے لشکر جرّار یعنی کفار کو بھگادیا۔