Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
58 - 671
حدیث نمبر58
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی قوم سے خطرہ محسوس فرماتے  ۱؎  تو کہتے اے اﷲ ہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں ۲؎  اور ان کی شر سے تیری پناہ لیتے ہیں ۳؎(احمد،ابوداؤد)۴؎
شرح
۱؎ اس طرح کہ آپ کو پتہ چلتا کہ فلاں قوم ہمارے خلاف سازش یا جنگی تیاری کررہی ہے۔خیال رہے کہ خوف بہت طرح کا ہے خوف اطاعت وبندگی صرف رب تعالٰی کا ہی ہونا چاہیے اور خوف نفرت شیطان وغیرہ دشمنوں سےاور خوف بمعنی خطرہ تکلیف ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کو وادئ سینا  میں سانپ سے خوف ہوا،آپ نے فرعونیوں سے خوف کیا  یہ واقعات اس آیت کے خلاف نہیں "لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ"کہ وہاں خوف اطاعت مراد اس ہی کی نفی ہے اور خوف بمعنے خطرہ۔

۲؎ نحر سینہ کو بھی کہتے ہیں اور جانور ذبح کرنے کو بھی"فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ"۔چونکہ دشمن کے مقابلہ میں سینہ تان کر ہی کھڑے ہوتے ہیں اس مقابلہ کو اس لفظ سے تعبیر فرمایا،نیز  اس میں نیک فال بھی ہے کہ خدایا  دشمن کو ذبح کردے کہ وہ ہمارے مقابلہ کے لائق ہی نہ رہے۔

۳؎ یعنی ہمارے اور دشمن کی شر کے درمیان تو  آڑ ہوجا تاکہ ان کی شر ہم تک نہ پہنچ سکے،یہ دعا بہت ہی مجرب ہے،ایک دشمن کے مقابل بھی کام آتی ہے اور بہت دشمنوں کے مقابل بھی فقیراس کا عامل ہے اور اس کی برکت سے شر اعدا سے محفوظ ہے۔

۴؎ اسے نسائی،ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیں۔حصن حصین شریف میں ہے دشمن کے خوف کے وقت"لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ"پڑھنا بڑی امان ہے۔امام نووی نے کتاب الاذکار میں فرمایا کہ لِاِیۡلٰفِ کو بہت اولیاءاﷲ نے آزمایا ہے بہت مجرب ہے۔حضرت زید ابن علی عن عتبہ ابن غزوان عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روایت،نیز حصن حصین شریف میں اسے نقل کیا کہ جب مدد  درکار ہو خصوصًا سفر میں تو کہے یَا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ  اے اﷲ اے بندو میری مدد کرو  ان شاءاﷲ بہت جلد مدد پہنچے گی،کہ بعض اﷲ کے غیبی بندے اس پر مامور ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ یہ حدیث یا عباداﷲ حدیث حسن ہے ومشائخ کی مجرب،مسافروں کو اس کی بہت ضرورت ہے۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے بندوں کو مدد کے لیے پکارنا بھی سنت ہے اور ان سے مدد لینا بھی سنت،یہ شرک نہیں۔
Flag Counter