| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے شروع اﷲ کے نام سے ۱؎ اﷲ پر بھروسہ کرتا ہوں خدایا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ ہم پھسلیں اور بہکیں ۲؎ یا ستائیں یا ستائے جائیں یا جہالت کریں یا ہم پر جہالت کی جائے ۳؎(احمد،ترمذی،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابوداؤد،ابن ماجہ کی روایت یوں ہے کہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میرے گھر سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کبھی نہ نکلے مگر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئے ۴؎ پھر کہتے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ بہکوں یا بہکایا جاؤں یا ظلم کروں یا ستایا جاؤں یا جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے ۵؎
شرح
۱؎ یعنی اس نکلنے کی ابتداء ا ﷲکے نام سے کرتا ہوں تاکہ نکلنا برکت والا ہو۔ ۲؎ بلا ارادہ گناہ ہو جانا ذلت ہے اور ارادۃً قصدًا گناہ کرنا ضلالت یا گناہ صغیرہ ذلت ہے گناہ کبیرہ ضلالت یا عملی غلطی ذلت ہے اور اعتقادی غلطی ضلالت،چونکہ گھر سے باہر نکل کر ہر قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے،اچھوں سے بھی بُروں سے بھی اس لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت مناسب ہے یعنی یا اﷲ گناہوں،بدعقیدگیوں سے تو ہی مجھے بچانا اب ہر طرح کے لوگوں سے مجھے ملنا ہے۔ خیال رہے کہ دعائیں تعلیم اُمت کے لیے ہیں۔ ۳؎ حقوق العباد مارنا ظلم ہے اور حقوق اﷲ ضائع کرنا جہالت یعنی خدایا نہ تو میں کسی کا حق ماروں نہ کوئی میرا حق مارے اور نہ میں تیرے حقوق میں کوتاہی کروں نہ کوئی مجھ سے کوتاہی کرائے۔اس جملہ کی اور بہت تفسیریں ہیں،سلامتی دین اسی میں ہے کہ انسان نہ ظالم ہو نہ مظلوم نہ جاہل ہو نہ مجہول۔(اشعہ مع زیادت) ۴؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ کعبہ قبلہ عبادت ہے اور آسمان قبلہ حاجات کہ سب کی جسمانی و روحانی روزی آسمان سے ہی آتی ہے اس لیے دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا پھیلانا ادھر دیکھنا بہتر ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ"۔اس نظر اٹھانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ رب تعالٰی آسمان میں رہتا ہے،وہ تو ہر جگہ وجہت سے پاک ہے ہر وقت ہمارے ساتھ ہے"وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ"۔ ۵؎ دونوں آیتوں میں بڑا فرق نہیں قریبًا یکساں ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ ہم لوگوں کے ساتھ مل کر کبھی تو دینی معاملے میں غلطی کر جاتے ہیں کہ خلاف عقیدہ باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں کبھی دنیوی معاملے میں یا اس طرح کہ کسی پر زیادتی کربیٹھتے ہیں اور یا اس طرح کہ ساتھی کا حق صحبت ادا نہیں کرتے،اس دعا میں ان تینوں چیزوں سے پناہ مانگی گئی۔