Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
56 - 671
حدیث نمبر56
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات سے پہلے سفر کرتے تو فرماتے اے زمین تیرا  اور میرا رب اﷲ ہے ۱؎  میں تیرے اور تیری اندرونی چیزوں کی اور جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کی اور جو تجھ پر چلتے ہیں ان کی شر سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں ۲؎ میں شیر سے کالے سانپ سے عام سانپوں سے اور بچھوؤں سے او ر شہر میں رہنے والوں کی شر سے اور ہر جننے والے اور جنے ہوئے کی شر سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ حق یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے تمام شجر و حجر کلام بھی کرتے ہیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نداو کلام کو سنتے بھی ہیں لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمین کو یہ خطاب فرمانا حقیقت پر مبنی ہے،رب تعالٰی نے زمین و آسمان سے یوں خطاب فرمایا تھا:"یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیۡ"اے زمین اپنا پانی نگل جانا اور اے آسمان اپنا پانی روک لے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نائب جنابِ کبریا ہیں،زمین و آسمان حضور علیہ السلام کا کلام سنتے اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں۔(ازمرقات)رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"ہم نے ہوا کو حضرت سلیمان کے لیے مسخر و تابع کردیا کہ ہوا آپ کے حکم سے چلتی تھی۔

۲؎ زمین کی شر زلزلہ،دھنسنا،گرجانا،راستہ بھول جانا وغیرہ ہیں اور اندرونی زمین کی شر سیلاب،سخت گرمی،سخت ٹھنڈک وغیرہ۔ زمین کی مخلوقات کی شر اندرونی کیڑے مکوڑے وغیرہ ہیں کہ سفر میں انہی کی وجہ سے حادثات زیادہ پیش آتے ہیں۔

۳؎ اگرچہ یہ چیزیں بھی زمین پر چلنے والوں میں داخل تھیں لیکن چونکہ ان کی شر خصوصًا مسافر کو بہت زیادہ پہنچتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر کیا،بعض لوگوں نے والد سے مراد ابلیس اور ولد سے اس کی ذریت لی ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اس کو عام رکھا جائے۔(لمعات)کیونکہ مسافر و اجنبی شہر میں چوراچکوں سے بھی بہت تکلیف پہنچ جاتی ہے۔
Flag Counter