۱؎ جس پر میں سفر میں عمل کرتا رہوں،وصیت اگرچہ مرتے وقت کے کلام کو کہتے ہیں جس کا تعلق بعد موت سے ہو مگر کبھی تاکید حکم کو بھی وصیت کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلٰدِکُمْ"اور کسی آخری حکم کو بھی یہاں دونوں معنٰی بن سکتے ہیں یعنی مجھے تاکیدی نصیحت فرمادیں،یا آخری نصیحت فرمادیں کیوں کہ اب میں بارگاہِ عالی سے رخصت ہورہا ہوں نہ معلوم اب حاضری میسر ہو یا نہ ہو۔
۲؎ یعنی ہر جگہ ہر حال میں خوفِ خدا دل میں رکھو کہ یہ تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہےاور دورانِ سفر میں جب کسی ٹیلہ یا پہاڑی پر چڑھو تو اﷲ اکبر کہہ لو،غرض دل و زبان دونوں کا انتظام فرمادیا،چڑھتے وقت تکبیر کہنے کی حکمتیں ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہیں۔
۳؎ اس طرح کہ دراز سفر اسے مختصر معلوم ہو یا واقعی بڑی مسافت اس کے لیے چھوٹی ہوجائے۔کراماتِ اولیاء معجزات انبیاء سے یہ بھی ہے کہ ان کے لیے زمین لپٹ جاتی ہے قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت آصف برخیا تختِ بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے شام میں لے آئے کہ گئے بھی لوٹ بھی آئے،قرآن کریم فرماتا ہے:"اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ"۔
۴؎ یہ تعمیم بعد تخصیص ہے یعنی وہ نعمت بھی دے اور ہر طرح اسے آسانی میسر فرما۔