| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا یارسول اﷲ میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ توشہ دیجئے ۱؎ فرمایا اﷲ تمہیں پرہیزگاری کا توشہ دے ۲؎ عرض کیا کچھ زیادہ دیجئے فرمایا تمہارے گناہ بخش دے عرض کیا میرے ماں باپ فدا کچھ اور عطا کیجئے ۳؎ فرمایا اﷲ تمہیں بھلائی میسر کرے تم جہاں بھی ہو ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۵؎
شرح
۱؎ یعنی میرے لیے ایسے وداعیہ دعا فرمایئے کہ جو توشہ کی طرح سفر دنیا و سفر آخرت میں ساتھ رہےاور مجھے توشہ کی طرح ہر وقت کام آئے۔زاد وہ زائد کھانا ہے جو مسافر کی موجودہ ضرورت سے بچا ہوا آئندہ کام آوے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقْوٰی"۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے لیے توشہ دارین سمجھتے تھے اور ہر موقعہ پر آپ سے دعائیں کراتے تھے اپنی دعاؤں پر کفایت نہ کرتے تھے۔ ۲؎ یعنے تمہیں دنیا میں لوگوں سے غنا دے کہ تم سوال سے بچو اور آخرت کے لیے نیک اعمال کی توفیق بخشے،بہت جامع دعا ہے۔ ۳؎ یعنے ابھی فقیر کی سیری نہیں ہوئی داتا کچھ اور ملے،دنیا میں صبر بہتر،آخرت کے معاملہ میں بے صبری و حرص افضل۔شعر حاجتے نیست مرا سیر ازیں آبِ حیات ضاعف اﷲ علٰی کل زمانٍ عطشی ۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی تمہیں جیتے مرتے،قبر و حشر ایسی بھلائیاں عطا فرمادے جس سے تمہیں پوری کامیابی نصیب ہو۔حیث ماکنت میں سفر،حضر،زندگی و قبر ہر جگہ داخل ہے۔سبحان اﷲ سائل کی جھولی بھردی نہ معلوم ان الفاظ سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا دے دیا ہو اور سائل نے کیا کچھ لے لیا،یہ تو دینے والے اور لینے والے جانیں۔ ۵؎ اسے حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی روایت کیا۔