| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی شخص کو وداع فرماتے ۱؎ تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے خود اسے نہ چھوڑاتے حتی کہ وہ شخص ہی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ چھوڑ دیتا ۲؎ اور فرماتے میں تیرا دین تیری امانت اور تیرا آخری عمل اﷲ کے سپرد کرتا ہوں۳؎ اور ایک روایت میں ہے خاتمہ کا عمل(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ) ان دونوں کی روایات میں آخر عملك کا ذکر نہیں۔
شرح
۱؎ صحابہ کرام سفر کو جاتے وقت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس بارگاہ عالی سے وداع ہوتے تھے اس وقت کا یہاں ذکر ہورہا ہے،اب بھی زائرین مدینہ منورہ سے چلتے وقت آخری سلام کے لیے روضہ انور پر حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں "الوداع الوداع یارسول اﷲ الفراق الفراق یا حبیب اﷲ"ہم نے ایک وداعیہ قصیدہ عرض کیا تھا جس کے کچھ شعر یہ ہیں۔شعر دور سے آئے تھے پردیسی غلام عرض کرنے کو غلامانہ سلام آستانہ سے وداع ہوتے ہیں اب یہ فرماؤ کہ بلواؤ گے کب چشم رحمت سے نہ تم کریو جدا رکھیو اپنے سایہ میں ہم کو سدا اس وقت جو دل کا حال ہوتا ہے وہ وداع ہونے والا ہی جانتا ہے۔شعر بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے روضہ اچھا زائر اچھے،اچھی راتیں،اچھے دن سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں ۲؎ یہ حضور کی بندہ نوازی اور شان کریمانہ ہے کہ غلاموں سے خود ہاتھ نہیں چھوڑاتے،اب بھی وہ ہم گنہگاروں کو خود نہیں چھوڑتے،اﷲ تعالٰی ان کے قدموں سے وابستگی عطا کرے۔ ۳؎ یعنی خدا تیرے دین و ایمان و خاتمہ کی حفاظت کرے،سب کچھ اس کے سپرد ہے۔امانت سے مراد یا تو اعمال شرعیہ ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"الخ یا مسافروں کے آپس کے اخلاق و مالی معاملات،چونکہ سفر میں کبھی آپس میں تلخی ترشی بھی ہوجاتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔اس دعا میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ اے مدینہ میں میرے پاس رہنے والے اب تک تو تو میرے سایہ میں تھا کہ ہر مسئلہ مجھ سے پوچھ لیتا تھا ہر مشکل مجھ سے حل کرلیتا تھا اب تو مجھ سے دور ہورہا ہے کہ ہر حاجت میں مجھ سے پوچھ نہ سکے گا تو تیرا ہر کام خدا کے سپر دہے۔ کیسی پیاری دعا ہے اورکسی مبارک وداع! آخر عمل سے مراد وقت موت ہے یعنی اگر اس سفر میں تجھے موت آئے تو ایمان پر آئے،تیری زندگی و موت رب کے حوالہ۔