Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
51 - 671
حدیث نمبر51
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کی خدمت میں سوار ی کے لیے گھوڑا لایا گیا ۱؎ آپ نے جب رکاب میں پیر رکھا ۲؎ تو فرمایا بسم اﷲ جب اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا الحمدﷲ۳؎ پھر فرمایا پاک ہے وہ رب جس نے اسے ہمارا تابعدار بنادیا  اور ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۴؎ پھر تین بار کہا الحمدﷲ اور تین بار اﷲ اکبر پاک ہے تو  میں نے یقینًا اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا ۵؎ پھر آپ ہنسے ۶؎ عرض کیا گیا اے امیرا لمؤمنین آپ کس چیز سے ہنس رہے ہیں تو فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے وہ ہی کیا جو میں نے کیا پھر آپ ہنسے ۷؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا کہ تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے ۸؎ جب وہ کہتا ہے خدایا میرے گناہ بخش دے، رب فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ بخشتا نہیں ۹؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ لغۃً  دابۃ ہر جانور کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا"مگر اصطلاح میں دابۃ گھوڑے کو کہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے آپ کی خدمت میں گھوڑا حاضر کیا گیا تھا۔

۲؎  رکاب بمعنی آلہ رکوب جس میں پاؤں رکھ کر سوار ہوتے ہیں۔

۳؎ یہ حمد سواری ملنے کے شکریہ  پر ہے یعنی خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری آسانی کے لیے ہم کو سواری بخشی،بہت لوگ مجبورًا پیدل سفر کرتے ہیں۔

۴؎ یہ قرآن شریف کی آیت ہے،اس کی شرح ابھی فصل اول میں گزر گئی۔خلاصہ یہ ہے کہ مولٰی ان قوی جانوروں کا ہم کمزور انسانوں کے قبضہ میں آجانا تیری مہر بانی سے ہے ہم تو مچھر مکھی کو تابع نہیں کرسکتے،پھر ہم پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہم کو خود اپنے ہاتھ پاؤں پر بھی اختیار و قبضہ نہ رہے گا یعنی بعد موت ہم کو وہ وقت یاد ہے،ہم اس نعمت پر متکبر نہیں تیرے شکر گزار ہیں۔سبحان اﷲ! کیسی جامع اور برمحل دعا ہے۔

۵؎ یعنی میری خطاؤں و گناہوں کے باوجود تو نے مجھے یہ سواری وغیرہ کی نعمتیں بخشیں تو مجھے امید ہے کہ تو اپنے کرم سے مجھے معافی بھی دے دے گا میں نے وہ ہی کیا جو گنہگار کرتے ہیں تو وہ ہی کر جو ستارو غفار کی شان ہے۔

۶؎ یعنی مسکرائے ٹھٹھا  نہ لگایا،مسکرانا اظہار خوشی کے لیے ہوتا ہے ٹھٹھا دل کی غفلت سے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مسکراتے بہت تھے ٹھٹھا کبھی نہ لگا۔

۷؎ یعنی میں قولی و عملی سنتوں پر عمل کررہا ہوں اس موقعہ پر یہ دعا مانگنا سنت قولی ہے او راس وقت تبسم کرنا سنت عملی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حالات کی نقل کرتے تھے اسے ثواب سمجھتے تھے اور یہ بھی پتہ لگا کہ حضور علیہ السلام کی ہر سنت پر عمل کرنا باعث ثواب ہے حتی کہ ہنسنا اور رونا بھی۔

۸؎ خلاصہ یہ ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی موافقت میں ہنس رہا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے رب تعالٰی کی موافقت میں تبسم فرمایا تھا تو یہ عملی سنت رسول بھی ہے اور سنت الہیہ بھی،رب تعالٰی تعجب کرنے،ہنسنے سے پاک ہے اس لیے وہاں ان الفاظ کے معنے ہوتے ہیں خوش ہونا۔رب تعالٰی کی رضا خوشی اس کی شان کے لائق ہے،ہماری ر ضا و خوشی ہماری حیثیت کے موافق ہے۔

۹؎ معلوم ہوا کہ رب تعالٰی اس بندے سے بہت راضی و خوشی ہوتا ہے جو اپنے کو بے کس و گنہگار جانے اور رب تعالٰی کو قادر و غفار جانے،یہ ہی حال بارگاہِ مصطفوی کا ہے کہ وہاں بھی بے کسی پر رحم بہت ہوتا ہے۔شعر

 دیکھی جو بے کسی تو  انہیں رحم آگیا			گھبرا کے ہوگئے وہ گنہگار کی طرف

خیال رہے کہ گناہ تو اﷲ تعالٰی ہی بخشتا ہے،اس کے محبوب بندے شفاعت تو کرتے ہیں مگر براہ راست گناہ بخشتے نہیں مگر حقوق بندے بھی معاف کرسکتے ہیں،میں اپنا قرض یا خون معاف کرسکتا ہوں لہذا حدیث بالکل واضح ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کے گناہ یا کفارے معاف فرمادیئے وہ باذن الٰہی تھے،ان معافیوں کی بہت مثالیں ہیں جو ہم نے اپنی کتاب "سلطنت مصطفی"میں بیان کی ہیں۔
Flag Counter