| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی جگہ بیٹھے جہاں شور و شغب زیادہ ہو ۱؎ تو اٹھنے سے پہلے یہ کہہ لے پاک ہے تو اے اﷲ اور تیری حمد ہے ۲؎ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۳؎ مگر اس کی تمام وہ حر کات معاف کردی جائیں گی جو اس مجلس میں ہوئیں ۴؎ (ترمذی،بیہقی،دعوات کبیر)
شرح
۱؎ لغطٌ سے مراد بے فائدہ گفتگو جس میں وقت ضائع ہو کہ یہ بھی نقصان دہ چیزہے۔بعض نے فرمایا کہ بے ہودہ گفتگو غط ہے جس میں حق اللہ ضائع ہو۔غرضکہ فریب،جھوٹ،غیبت اس سے خارج ہیں کہ یہ چیزیں حقوق العباد میں سے ہیں بغیر معاف کرائے معاف نہ ہوں گی۔ ۲؎ اس دعا کا ماخذ یہ آیت ہوسکتی ہے"وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ"۔ ۳؎ یعنی اس اضاعت وقت کے قصور اور تیری نعمت زبان کو غلط استعمال کرنے کی غلطی سے توبہ کرتا ہوں،میں قصور مند بندہ ہوں تو غفور رحیم رب ہے معافی دے دے۔سبحان اﷲ! کیسی پاکیزہ دعا ہے۔ ۴؎ بخشش سے وہ ہی مراد ہے جو ابھی اوپر عرض کیا گیا کہ جیسے مال برباد کرنا گناہ ہے ایسے ہی وقت برباد کرنا بھی گناہ،وقت مال سے زیادہ لائق قدر ہے اسی گناہ کی معافی مانگی گئی۔