| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب اور حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی شخص نہیں جو کسی گرفتار بلا کو دیکھے ۱؎ تو یہ کہہ لے شکر ہے اس اﷲ کا جس نے مجھے اس آفت سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور اس نے مجھے بہت سی مخلوق پر بزرگی بخشی ۲؎ مگر اسے یہ بلا نہ پہنچے گی جو بلا بھی ہو ۳؎(ترمذی)اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ابن عمر سے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہےاور عمرو ابن دینار ر اوی قوی نہیں ۴؎
شرح
۱؎ بلا خواہ جسمانی ہو جیسے کوڑھ،اندھا پن یا اور کوئی بیماری یا مالی جیسے قر ض،فقر،تنگی رزق وغیرہ،یا دینی جیسے کفر،فسق، ظلم،بدعت وغیرہ۔غرضکہ ہر مصیبت کے لیے یہ دعا اکسیر ہے۔(لمعات،مرقات) ۲؎ یہ دعا بہت آہستہ کہے کہ وہ مصیبت زدہ نہ سنے،ورنہ اسے رنج ہوگا۔(لمعات)مگر فاسق و فاجر کو سنا کر یہ دعا پڑھے تاکہ اسے عبرت ہو اور فسق سے توبہ کر ے۔(مرقات)خیال رہے کہ یہ شکریہ اپنی عافیت پر ہے نہ کہ اس کی آفت پر کیونکہ دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونا سخت جرم ہے،چونکہ یہ دعا آفت زدہ کو دیکھتے ہوئے پڑھی جائے گی اس لیے خطاب کی ضمیر آئی۔ ۳؎ یہ دعا اکسیر اعظم ہے،بہت لوگوں نے اس کی آزمائش کی ہے،فقیر کا اس پر خود عمل ہے اسے نہایت مجرب پایا،ہر مسلمان اسے یاد کرلے ان شاءاﷲ بہت فائدہ اٹھائے گا۔ ۴؎ ترمذی نے یہ حدیث دو اسنادوں سے روایت کی،حضرت ابوہریرہ اور سیدنا عمر ابن خطاب سے پہلی اسناد کو حسن اور دوسری کو ضعیف کہا مطلقًا ضعیف نہ کہا اور اگر ضعیف بھی ہوتی تب بھی عمل امت اور تجربہ امت سے قوی بن جاتی جیسا کہ بارہ ہزار کلمہ والی حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے لیکن کشف اولیاء اور تجربہ امت سے حدیث صحیح مانی گئی۔اس ضعیف کے قوی ہوجانے کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں مطالعہ فرمائیے۔