| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص بازار میں داخل ہونے پر یہ کہہ لے ۱؎ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،اکیلا ہے وہ جس کا کوئی ساجھی نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے زندگی اور موت دیتا ہے وہ خود زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا اسی کے قبضہ میں خیر ہے ۲؎ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎ تو اﷲ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا تا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور شرح سنہ میں یوں ہے ۵؎ کہ جو بھرے بازار میں جائے جہاں تجارت ہوتی ہے۔(مَنْ دَخَلَ السُّوْقَ کے عوض)۶؎
شرح
۱؎ عربی میں بازار کو سوق کہتے ہیں کیونکہ یہ سَوق سے بنا بمعنی جانا اور لے جانا،چونکہ لوگ بازار میں خود بھی جاتے ہیں اور اپنے سامان بھی لے جاتے ہیں اس لیے اسے سوق کہا جاتا ہے،بعض نے کہا کہ یہ ساق کی جمع ہے بمعنی پنڈلی،چونکہ لوگ بازار میں اکثر اپنی پنڈلیوں پر کھڑے ہی ہوتے ہیں بیٹھتے کم ہیں اس لیے اسے سوق کہتے ہیں۔بازار غفلت،شیطان کے تسلط اور اکثر جھوٹ دھوکے کی جگہ ہے اس لیے وہاں جاتے وقت اس دعا کا ثواب بھی زیادہ ہے۔بہتر ہے کہ یہ دعا آہستہ پڑھے تاکہ ریاء سے دور رہے اور اگر اس لیے کچھ آواز سے بھی پڑھ لے کہ دوسرے بھی یہ پڑھ لیں تو مضائقہ نہیں۔ ۲؎ اگرچہ شر بھی اﷲ تعالٰی ہی کے قبضہ میں ہے مگر چونکہ شر کو رب تعالٰی کی طرف نسبت دینے میں بے ادبی سی ہے اس لیے صرف خیر کا یہاں ذکر کیا،کہنا یہ چاہئے کہ خیر رب تعالٰی کی طرف سے ہے شرمیری طرف سے۔ ۳؎ اس دعا کی برکت سے ان شاءاﷲ یہ محض اس مبارک جماعت میں داخل ہو جائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے "رِجَالٌ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجٰرَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ"وہ لوگ جنہیں تجارتی کاروبار اﷲ کے ذکر سے نہیں روکتا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ شیطان بازار ہی میں اپنے انڈے بچے دیتا ہے وہاں ہی اس کے جھنڈے گڑھتے ہیں،وہاں ہی نوے فی صد گناہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے،دکاندار حضرات ضرور پڑھ لیا کریں کہ انہیں اکثر وقت وہاں ہی رہنا ہوتا ہے۔آج کل کچہریاں بازاروں سے بدتر ہیں،وہاں بھی یہ دعا ضرور پڑھے۔(ازمرقات مع زیادۃ) ۴؎ اگر دونوں الف کو زبر اور درجہ کو بھی زبر پڑھا جائے تو معنی ہوں گے ہزار ہزار یعنی ہزار ہا نیکیاں،یہ ہی ترجمہ اشعۃ اللمعات نے کیا اور اگر پہلے الف کو زبر اور دوسرے الف کو کسرہ یعنی زیر اور حسنۃ کو زیر ہی پڑھا جائے تو معنی ہوں گے کہ ہزار جگہ ہزار یعنی دس لاکھ سو ہزار ایک لاکھ،دس سو ہزار دس لاکھ۔دوسرے معنی فقیر نے اس لیے اختیار کیے کہ رب تعالٰی کی ر حمت بہت وسیع ہے اور اس کے خزانو ں میں کمی نہیں۔ ۵؎ شرح سنہ صاحب مصابیح کی کتاب ہے جیسا کہ دیباچہ میں عرض کیا گیا۔ ۶؎ بازار کی جتنی رونق زیادہ اور وہاں جتنا کاروبار زیادہ اتنے ہی وہاں گناہ زیادہ اسی لیے اس قدر دعا کا ثواب زیادہ مرقات نے فرمایا کہ وقتیبہ ابن مسلم بادشاہ خراسان یہ حدیث سن کر یہ دعا،پڑھنے کے لیے روزانہ بازار جاتے تھے اور یہ دعا پڑھ کر لوٹ جاتے۔