Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
46 - 671
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر46
ر وایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اﷲ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے ۱؎ تو کہتے اے اﷲ اسے ہم پر امن و امان،سلامتی اورا سلام کا چاند بنا کر چمکا ۲؎  اے چاند میرا  اور تیرا رب  اللہ ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ عربی میں پہلی دوسری تیسری رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں،پھر قمر یعنی جب سرکار مہینہ کا چاند پہلی بار دیکھتے تو یہ دعا مانگتے۔

۲؎ اس طرح کہ یہ چاند ہمارے لیے تیری یہ نعمتیں لایا ہو اور اس مہینہ میں ہمیں تیری یہ نعمتیں ملیں۔خیال رہے کہ اوقات راحات و آفات کا ظرف تو ہیں مگر کبھی سبب بھی ہوتے ہیں جیسے گرمی اور سردی کا سبب وقت ہے،نمازوں کے وجوب کا سبب وقت ہے،ایسے ہی کبھی روحانی حالات کا سبب بھی وقت بن جاتے ہیں لہذا یہ دعا  اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

۳؎ اس میں مشرکین کی تردید ہے جو چاند سورج کو معبود جان کر ان کی پوجا کرتے تھے،خطاب چاند سے ہے سنانا انسان کو ہے۔
Flag Counter