۱؎ عربی میں پہلی دوسری تیسری رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں،پھر قمر یعنی جب سرکار مہینہ کا چاند پہلی بار دیکھتے تو یہ دعا مانگتے۔
۲؎ اس طرح کہ یہ چاند ہمارے لیے تیری یہ نعمتیں لایا ہو اور اس مہینہ میں ہمیں تیری یہ نعمتیں ملیں۔خیال رہے کہ اوقات راحات و آفات کا ظرف تو ہیں مگر کبھی سبب بھی ہوتے ہیں جیسے گرمی اور سردی کا سبب وقت ہے،نمازوں کے وجوب کا سبب وقت ہے،ایسے ہی کبھی روحانی حالات کا سبب بھی وقت بن جاتے ہیں لہذا یہ دعا اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
۳؎ اس میں مشرکین کی تردید ہے جو چاند سورج کو معبود جان کر ان کی پوجا کرتے تھے،خطاب چاند سے ہے سنانا انسان کو ہے۔