| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب جہاد یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے ۱؎ تو ہر اونچی زمین پر تین بار تکبیر کہتے ۲؎ پھر کہتے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کا ملک ہے ،اسی کی تعریف ہے ،وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎ ہم لوٹ رہے ہیں ،توبہ کرتے ہیں ،عبادت کرتے ہیں ،سجدے کرتے ہیں ،اپنے رب کی حمد کرتے ہیں ۴؎ اﷲ نے اپنا وعدہ سچا کردیا اپنے بندے کی مدد سے اور احزاب کو اکیلے ہی بھگادیا ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اپنے ہر سفر سے واپسی میں یہ فرماتے،مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعد نبوت سفر دنیا کے لیے کیے ہی نہیں بلکہ آپ کے سفر ان تین قسموں کے ہی ہوئے اس لیے راوی نے اس طرح بیان کیا۔ ۲؎ تاکہ اس کی حمد مطابق حال کے ہو کیونکہ اس وقت خود زمین سے بلند ہورہے ہیں اس لیے اﷲ کی بلندی کا ذکر کیا اور اترتے وقت رب کی تسبیح پڑھتے تھے۔ ۳؎ ان کلمات کی شرح بار ہا ہوچکی ہے یہ چوتھے کلمے کے الفاظ ہیں اور رب تعالٰی کی بہترین حمد اس موقع پر یہ اس لیے پڑھا گیا تاکہ معلوم ہو کہ ہمارا بخیریت لوٹنا رب تعالٰی ہی کی قدرت سے ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کی موت تعجب نہیں بلکہ اس کی زندگی تعجب ہے کہ اتنی آفتوں میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود کیسے جینا ہے اور کیسے چلنا پھر نا ہے۔ ۴؎ یعنی ہم بفضلہ تعالٰی بخیریت اپنے وطن کو لوٹ رہے ہیں اور اس سرن میں جو عبادتوں میں کوتاہی ہوگئی ہو اس سے توبہ کرتے ہیں ا ور وعدہ کرتے ہیں کہ ہمیشہ رب کے عابد اور اس کے حضور ساجد رہیں گے۔ترمذی کی روایت میں بجائے سَاجِدُوْنَ کے سَائِحُوْنَ ہے،سیحٌ سے مشتق بمعنی پانی کا بہنا یعنی ہم مطلوب کی طرف بآسانی جارہے ہیں۔ ۵؎ اس میں خدا کی تین نعمتوں کا ذکر ہے:ایک اسلام کے غلبے کا وعدہ فرمانا ہے اور اسے پورا کردینا۔دوسرے اپنے بندہ خاص حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری مدد صحابہ کے ذریعہ اور باطنی مدد ہواؤں اور فرشتوں کے ذریعہ فرمانا اور تیسرے غزوہ احزاب جسے غزوہ خندق بھی کہتے ہیں اس میں کفار کے لشکر جرّار کو تیز ہوا سے بھگا دینا ورنہ مسلمان اس وقت بچ نہ سکتے تھے کیونکہ بارہ ہزار کفار کا لشکر مدینہ منورہ پر باہر سے حملہ آور ہوا تھا اور ادھر خود مدینہ کے یہود نے عہد شکنی کرکے مسلمانوں کو فنا کرنے کی ٹھان لی تھی،اندیشہ تھا کہ اس موقعہ پر مسلمان ان بیرونی اور اندرونی دشمنوں میں پھنس کر ایسے پس جاتے تھے جیسے چکی میں دانہ، رب تعالٰی خود فرماتا ہے:"اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوۡدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا"اور ہوسکتا ہے کہ احزاب سے مراد کفار کی سار ی جماعتیں ہوں۔