۱؎ احزاب یعنی غزوہ خندق کا کچھ ذکر ابھی ہوچکا،چونکہ اس موقعہ پرعرب کی سار ی ہی کفار جماعتیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے حضرت سلمان فار سی کے مشورہ سے شہر کے آس پاس خندق کھدوائی تھی اس لیے اسے غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں اور خندق بھی۔دعا کا مقصد یہ ہے کہ اے مولٰی تو تو ایسی قدرت والا ہے کہ آسمان سے کتابیں اتار سکتا ہے،ساری مخلوق کا حساب قیامت میں چار گھنٹہ میں لے لے گا،تیرے نزدیک ان سارے کفار کو بھگا دینا ہمیں ان سب کے شر سے بچالینا کیا مشکل ہے،خدایا اپنی قدرت دکھادے،انہیں بھگادے ہمیں بچالے،حضور علیہ السلام کی دعا لفظ بلفظ قبول ہوئی کہ ایک تیز ہوا چلی جس سے کفار کے خیمے اڑ گئے،جانور بھاگ گئے اوران کی جماعتیں،تتر بتر ہوگئیں،اگر حضور علیہ السلام دعا کردیتے کہ انہیں ہلاک کردے تو ایک کافر بھی بچ کر نہ جاتا۔