۱؎ بلامجبوری و معذوری سواری پرطواف کرنا ممنو ع ہے،طواف میں چلنا واجب ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا اونٹ پر طواف لوگوں کی تعلیم کے لیے تھا تاکہ تمام لوگ یہ طواف دیکھ کر طواف کرنا سیکھ لیں لہذا یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے اور یہ حضور کا معجزہ ہے کہ اونٹ نے اس وقت پیشاب پائخانہ نہ کیا۔ہم لوگ مجبوری کی حالت میں بھی اونٹ،گھوڑا حرم شریف میں نہیں لے جاسکتے،ڈولی میں طواف کریں گے جیسا کہ بیمار و بڈھے لوگ کرتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے طوف قدوم تو پیدل کیا اور طواف زیارت سواری پر لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے طواف میں رمل کیا اور سواری پر رمل ناممکن ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور اس وقت بیمار تھے اس لیے سواری پر طواف کیا مگر یہ غلط ہے،ہاں بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک عمرہ میں صفا مروہ کی سعی سواری پر کی مگر بیماری کی وجہ سے اس سعی میں حضور ان پہاڑوں پر چڑھے بھی نہیں،صفا مروہ کی سعی سواری پر کرنا ممنوع ہے۔(ازمرقات)
۲؎ کوئی بڑی چھڑی حضور انور کے ہاتھ شریف میں تھی جو اونٹ سے سنگ اسود تک پہنچ جاتی تھی اس طرح چومنا جائز ہے۔