| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت زبیر ابن عربی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر سے سنگ اسود چومنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور چومتے دیکھا ۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ زبیر ابن عربی تابعی بصری ہیں،حضرت ابن عمر سے سماع ثابت ہے ان سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے۔(اشعہ)اور زبیر ابن عدی کوفی ہیں،تابعی ہیں،انہوں نے حضرت انس ابن مالک سے سنا ہے۔(مرقات) ۲؎ کہ یہ چومنا جائز ہے یا ناجائز،اگرجائز ہے تو سنت بھی ہے یا نہیں،بعض جہلاء کو خیال ہوگیا تھا کہ یہ پتھر پرستی ہے،ان پر شیطانی توحید کا زور ہوگیا تھا اس لیے صحابہ کرام سے یہ سوالات ہوتے تھے اس طرح کہ کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے منہ لگا کر چوما اور کبھی ہاتھ سے سنگ اسود چھوا اور ہاتھ شریف چوم لیا۔