Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
181 - 671
حدیث نمبر181
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب مکہ معظمہ تشریف لائے تو حجر اسود پر پہنچے اسے چوما ۱؎  پھر اس کی داہنی طر ف چلے تو تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں معمولی چال اختیار کی ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ سنگ اسود چومنے کے چار طریقے ہیں:خود اس پر لب لگا کر بوسہ دینا،اسے ہاتھ سے چھوکر ہاتھ چوم لینا،چھڑی وغیرہ لگا کر چھڑی چوم لینا،دور سے سنگِ اسود کی طرف ہاتھ کرکے ہاتھ چوم لینا۔پہلی صورت بہت بہتر ہے اگر میسر ہو باقی دو صورتیں بھی جائز ہیں،یہاں پہلی صورت مراد ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تینوں طرف سنگ اسود چوما ہے،منہ لگا کر چومنا کبھی کبھی میسر ہوتا ہے اکثر چوتھی صورت ہی میسر ہوتی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ طواف شروع کرتے وقت سنگِ اسود چومنا سنت ہے۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ اگلے تین چکروں میں پورے چکر میں رمل فرمایا،سنگِ اسود سے سنگِ اسود تک۔
Flag Counter