| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کیا تو مجھے حضرت عائشہ نے خبر دی ۱؎ کہ پہلا وہ کام جس سے حضور انور نے مکہ معظمہ آتے وقت ابتداء کی یہ تھا کہ آپ نے وضو کیا پھر بیت اﷲ کا طواف کیا ۲؎ پھر عمرہ نہ ہوا ۳؎ پھر حضرت ابوبکر نے حج کیا تو پہلا وہ کام جس سے ابتداء کی یہ تھا کہ بیت اﷲ کا طواف کیا پھر عمرہ نہ ہوا پھر حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اسی طرح عمل کیا ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ عروہ ابن زبیر ثقہ تابعین میں سے ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے یعنی اسماء کے صاحبزادے،آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایات کیں۔ ۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم غسل تو ذی طویٰ میں فرماچکے تھے اب بھی باوضو تھے یہ وضو پر وضو فرمایا۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک طواف کے لیے طہارت واجب ہے،دوسرے اماموں کے ہاں شرط ہے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ طواف نماز ہی ہے،ہاں طواف میں رب نے کلام جائز فرمادیا ہے۔جب طواف نماز ہے تو نماز میں طہارت شرط ہے لہذا طواف میں بھی شرط ہے مگر استدلال ضعیف ہے اوّلًا تو وہ حدیث ہی صحیح نہیں،دوم تشبیہ ہر بات میں نہیں ہوتی،دیکھو نماز میں کھانا پینا مفسد ہے مگر طواف میں کھانا پینابالاتفاق طواف نہیں توڑتا۔ ۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سوا حج کے ساتھ والے عمرہ کے اور دوسرا عمرہ نہ کیا،آپ سے دوسرا عمرہ ثابت نہ ہوا،بعض شارحین نے اس جملہ کے اور معافی بھی کیے ہیں مگر یہ معنی بہت قوی ہیں۔ ۴؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرات خلفائے راشدین نے بھی اسی طرح عمل کیا کہ مکہ معظمہ میں آتے ہی طواف کیا اور حج سے پہلے صرف یہ ہی ایک عمرہ کیا جس کا احرام حج کے احرام کے ساتھ باندھا تھا،بعض حجاج حج سے پہلے اور حج کے بعد بہت سے عمرے کرتے رہتے ہیں یہ بھی اچھا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ مکہ معظمہ سے عمرہ کے لیے باہر جانا صحابہ سے ثابت نہیں بجز حضرت عائشہ صدیقہ کے کہ آپ رہے ہوئے عمرہ کو پورا کرنے کے لیے تنعیم سے احرام باندھ کر آئیں۔(مرقات)لم تکن عمرۃ حضرت عروہ کا قول ہے نہ کہ عائشہ صدیقہ کا۔