۱؎ یعنی نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع میں جس میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں،مکہ معظمہ اس طرف سے داخل ہوئے جس کا نام کداء تھا،مکہ معظمہ کے قبرستان جنت معلی کی طرف جسے اب حجون کہتے ہیں اور واپسی کے وقت اس طرف سے نکلے جسے ہدی کہتے تھے۔اب اسے باب الشبیکہ کہا جاتا ہے،فتح مکہ میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں راستوں سے داخل و خارج ہوئے،یہ تبدیلی راہ انہیں مصلحتوں سے فرمائی جو عید کے دن عیدگاہ جاتے آتے وقت ہوا کرتی تھیں کہ تبدیلی راہ تبدیلی حال کی علامت ہو دونوں راستے گواہ ہوجاویں،سارے شہر کی برکتیں میسر ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔