۱؎ یہاں بھی تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی حج و عمرہ سے نفع اٹھالے دونوں ایک سفر میں کرنا قران کا مقابل نہیں یعنی الگ الگ احرام سے حج و عمرہ کرنا جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔
۲؎ پورا حلال ہونا یہ ہے کہ بیوی سے صحبت بھی جائز ہوجائے،ناقص حل یہ ہے کہ سلا کپڑا،خوشبو،سر ڈھانپنا تو حلال ہوجائے مگر صحبت حرام رہے اس حکمت سے یہاں پورے حلال کا حکم دیا۔
۳؎ یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں داخل ہوگیا،کفار عرب کا عقیدہ تھا کہ شوال سے محرم تک عمرہ کرنا حرام ہے ماہ صفر سے جائز ہوتا ہے یہ عقیدہ ختم فرمادیا گیا،بعض علماء جو فرماتے ہیں کہ مکہ والے حج کے زمانہ میں عمرہ نہ کریں اس کی وجہ صر ف یہ ہے کہ ان کے عمرہ کرنے سے ہجوم زیادہ ہوجائے گا اور باہر والوں پر طواف و سعی میں دشواری ہوگی،یہ لوگ تو ہمیشہ عمرہ کرسکتے ہیں،باہر کے حجاج کو اس زمانہ میں عمرہ آسانی سے کرنے دیں۔