Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
172 - 671
حدیث نمبر172
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وداعیہ حج میں حج و عمرہ کا تمتع کیا ۱؎ تو اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے تو ابتداء یوں فرمائی کہ پہلے عمرہ کا پھرحج کا احرام باندھا ۲؎ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرہ کا تمتع کیا ۳؎ بعض لوگ تو ہدی لے گئے تھے اور بعض نہ لے گئے تھے تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم سے جو ہدی لایا ہو وہ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہو۴؎ تا آنکہ حج پورا کرلے اور جو ہدی نہ لایا ہو وہ کعبہ کا طواف کرے اور صفا مروہ میں دوڑے اور بال کٹوائے حلال ہوجائے۵؎ پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی دے جو قربانی نہ پائے وہ تین روزے زمانہ حج میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹتے وقت ۶؎ پھر جب حضور انور مکہ آئے تو طواف کیا سب سے پہلے سنگ اسود چوما پھرتین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں عام رفتار سے چلے۷؎ پھر جب طواف کعبہ پورا کرچکے تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا پھر لوٹے تو صفا پر آئے صفا مروہ کا سات بار طواف کیاپھر آپ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہوئے۸؎ حتی کہ حج پورا فرمالیا اور قربانی کے ہدی ذبح کردیئے اور منٰی سے چلے بیت اﷲ کا طواف کیا پھر تمام حرام شدہ چیزوں سے حلال ہوگئے ۹؎ اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سے کام تمام ہدی لانے والے لوگوں نے کئے۱۰؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں تمتع بمعنی لغوی میں ہے حج و عمر ہ دونوں سے نفع حاصل کرنا تمتع عرفی یعنی قران  کا مقابل مراد نہیں تاکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہ ہو جن میں قران  ثابت ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اولًا حج کا احرا م باندھا پھر عمرہ کا بھی باندھ لیا جس سے قران  ہوگیا۔(اشعہ،مرقات،لمعات)یا اس کے برعکس دوسری صورت زیادہ ظاہر ہے۔

۲؎  بعض علماء نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا پھر عمرہ کا مگر چونکہ قران  میں عمرہ پہلے ہوتا ہے حج بعد میں اس لیے عمرہ کا پہلے ذکر ہے۔بعض نے اس کو ظاہری معنی پر رکھا اور کہا کہ جن روایات میں اس کے برعکس ہے وہاں حج کے فرض کی وجہ سے اس کا ذکر پہلے ہے۔ واﷲ اعلم!(مرقات)

۳؎ یعنی بعض صحابہ نے بھی قران  کیا،یہاں بھی تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی حج و عمرہ سے نفع حاصل کرنا۔

۴؎ یعنی ہدی والے تو احرام پر قائم رہیں اور بغیر ہدی والے عمرہ کر کے احرام کھول دیں اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔شیخ نے یہاں فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا پھرعمرہ کا جن لوگوں نے پہلا احرام دیکھا انہوں نے افراد کی روایت کی اورجنہوں نے بعد کا حال دیکھا انہوں نے قران کی روایت کی،تمتع والی روایات میں تمتع سے لغوی معنی مراد ہیں،قران بھی لغۃً  تمتع ہے لہذا تمام احادیث درست ومطابق ہیں۔(اشعہ)

۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ حج کا احرام والا بھی عمرہ کر کے کھل جائے حج کو فتح کردے،پھر بعد میں نئے احرام سے حج کرے تاکہ لوگوں کا یہ خیال ٹوٹ جائے کہ حج کے زمانہ میں عمرہ حرام ہے یا احرام کھولنا حرام،اب یہ درست نہیں کہ حج کا احرام باندھ کر عمرہ کر کے کھول دے۔جن صحابہ کرام نے تمتع کا انکار کیا ان کی یہ ہی مراد ہے یعنی حج فتح کر  کے عمرہ کرنا پھر حج کرنا،یہ بات خوب ذہن میں رکھیئے۔

۶؎ متمتع یا قارن اگر قربانی کے لیے جانور میسر نہ پائیں تو دس روزے رکھیں تو حج سے پہلے اشہر حج میں شوال،ذیقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن میں،مگر بہتر یہ ہے کہ تیسرا روزہ نویں ذوالحجہ کو ہو اور سات روزے حج کے بعد گھر پہنچ کر یا ایام تشریق کے بعد مکہ معظمہ میں۔(مرقات و کتب فقہ)

۷؎  رمل یا خوب اکڑکر چلنے یا بہادروں کی رفتار سے چلنے کو کہتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے عمرہ قضا کے طواف میں تین چکروں میں رمل کیا تھا مشرکین مکہ کو اپنی طاقت و قوت دکھانے کے لیے،پھر یہ رمل دائمی سنت ہوگیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے طواف قدوم میں بھی کیا اب بھی حجاج رمل کرتے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے اعمال و افعال کی نقل عبادت ہے،اس رب کے گھر میں طواف جو عبادت ہے اس کی حالت میں اکڑنا عقل کے خلاف معلوم ہوتا ہے،بارگاہِ الٰہی میں عجزو انکسار چاہیے مگر چونکہ یہ اکڑنا سنت ہے لہذا محبوب ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ عین عبادت کی حالت میں کفار کو اپنی طاقت دکھانا بہتر ہے کہ اسلامی قوت کا اظہار بھی عبادت ہے،اب بھی فوجی پریڈ و فوجی سلاموں میں پھرتی و طاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔

۸؎ بلکہ احرام پر قائم رہے کیونکہ آپ قارن تھے اور قران میں بقر عید کے دن ہی احرام کھولا جاتا ہے،یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ کے بعد حج کا احرام باندھا لہذا یہ ہی ظاہر ہے کہ حج و عمرہ کے احرام ایک ساتھ ہی باندھے تھے اور قران ہی کیا تھا،یہ احناف کا مذہب ہے کہ قران افضل ہے۔

۹؎ اس طرح کہ بقر عید کے دن رمی جمرہ سے تو حل ناقص ہوا جس سے سواء جماع باقی تمام چیزیں حلال ہوگئیں اور طواف زیارت سے حل کامل ہوگیا کہ صحبت بھی درست ہوگئی۔

۱۰؎ یعنی ہدی والے صحابہ کرام تو احرام سے بقر عید کے دن فارغ ہوئے اور بغیر ہدی والے صحابہ خواہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا یا حج کا عمرہ کر  کے احرام سے کھل گئے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو محرم ہوئے جیساکہ گزر گیا۔
Flag Counter