Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
174 - 671
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر174
روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی لوگوں کی جماعت میں حضرت جابر بن عبداﷲ کو سنا فرماتے تھے ۱؎ کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خالص حج کے لیے احرام باندھا ۲؎ عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چاربقرعید کی تاریخ کی صبح مکہ معظمہ پہنچے تو ہم کو کھل جانے کا حکم دیا عطا کہتے ہیں کہ فرمایا حلال ہوجاؤ،عورتوں سے صحبت کرو ۳؎عطا کہتے ہیں صحبت ان پر واجب نہ کی لیکن ان کے لیے عورتیں حلال فرمادیں ۴؎ ہم نے سوچا کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم کو بیویوں کے پاس جانے کی اجازت دے دی تو کیا ہم عرفہ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ۵؎ راوی کہتے ہیں حضرت جابر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے گویا میں ان کا ہاتھ ہلتا دیکھ رہا ہوں ۶؎ فرماتے ہیں تو ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اﷲ سے ڈرنے والا سب سے زیادہ سچا اور نیک اعمال ہوں ۷؎  اگر میری ہدی نہ ہوتی تو جیسے تم حلال ہورہے ہو میں بھی حلال ہوجاتا اور جو بات بعد میں کھلی اگر پہلے سے ہم جانتے تو ہدی لاتے ہی نہیں ۸؎ لہذا حلال ہوجاؤ چنانچہ ہم حلال ہوگئے ہم نے آپ کا حکم سنا اور بجا لائے ۹؎ عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے کہا پھر حضرت علی اپنے دارالعمالہ سے آئے ۱۰؎ حضور انور نے پوچھا کون سا احرام باندھا عرض کیا وہ جو اﷲ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے باندھا حضور نے فر مایا ہدی ذبح کرو اور احرام میں ٹھہرو حضرت علی ہدی لائے تھے ۱۱؎ حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا یہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے ۱۲؎(مسلم)
شرح
۱؎  آپ کا نام عطاء ابن ابی رباح ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،مکہ معظمہ کے رہنے والے ساتھیوں کی جماعت کا ذکر قوت استدلال کے لیے کیا یعنی میں نے اکیلے یہ حدیث نہ سنی اس کے سننے والے دوسرے لوگ بھی ہیں۔

۲؎ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم نے یا ہدی نہ لے جانے والے صحابہ نے حج کا احرام باندھا یا حضرت جابر نے اپنے اندازے سے یہ فرمایا ورنہ بہت سے صحابہ نے صر ف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔خیال رہے کہ یہاں صحابہ کا ذکر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو قران کیا تھا جیسے کہ پہلے عرض کیا گیا،بہرحال یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔

۳؎ یعنی پورے حلال ہوجاؤ جس میں بیوی سے صحبت بھی جائز ہےاس موقعہ پرکھل جانے کاحکم تو وجوبی تھا اور صحبت کا حکم اباحت کا،زیادہ سے زیادہ استحباب کا بہرحال دونوں حکم یکساں نہیں ہیں۔

۴؎ علماء فرماتے ہیں کہ اگرچہ امر اباحت کا تھا مگر اس وقت ان لوگوں پر اپنی بیویوں سے صحبت مستحب ہوچکی تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم تھا۔

۵؎ یہ کہنا یا سوچنا انکار کے لیے نہ تھا بلکہ حیرت کے لیے تھا جیساکہ فرشتوں نے خلیفہ الٰہی کا اعلان سن کرعرض کیا تھا اتجعل فیھا،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ نبی کے فرمان کا انکار تو کفر ہے،چونکہ یہ عمل صدیوں کے مروجہ عقیدے و عمل کے خلاف تھا اس لیے انہیں حیرت ہوئی اس کا پہلے سے اعلان ہوا کبھی نہ تھا اچانک حکم پہنچا۔

۶؎  یہ حضرت عطاء کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے یہ کلام ہاتھ ہلاکر کیا جیساکہ عادتًا بات کرتے ہیں ہاتھ ہلاتے جاتے ہیں یا بقیہ مدت کی کمی بیان کر نے کے لیے ہاتھ ہلایا کہ جب اتنی سی رتی بھر گھڑیاں باقی رہ گئیں عرفہ کا دن بالکل قریب ہی آگیا تو صحبت حلال کی گئی،بعض شارحین نے فرمایا کہ ہاتھ کی حرکت ذکر کر کے منی ٹپکانے کی طرف اشارہ ہے مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا،ورنہ پھر انگلی ہلائی جاتی نہ کہ ہاتھ،پہلی دو توجیہیں بہت قوی ہیں۔ (مرقات)

۷؎  سرکار کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی درستی میں کچھ شبہ نہ ہوا تھا نہ انہیں قبول حکم سے سرتابی تھی،صدیوں کے عقیدے کے خلاف پر تعجب تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کا شوق تھا کیونکہ حضور عالی خود حلال نہ ہوئے تھے تو گویا اس وقت حلال نہ ہونا انہوں نے سنت جانا حلال ہوجانا بالکل ناجائز مانا،شوق تھا کہ افضل پر عمل کریں لہذا اس سے روافض دلیل نہیں پکڑ سکتے۔

۸؎  اس جملہ نے معاملہ صاف کردیا کہ صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کا شوق تھا نہ کہ حکم سے سرتابی اگر مجھے تمہارے اس شوق کا پہلے سے اندازہ ہوتا تو میں بھی نہ لاتا اور تمہارے ساتھ میں بھی حلال ہوجاتاتاکہ تمہیں حلال ہونے میں تکلف نہ ہوتا۔خیال رہے کہ لَوْ اِسْتَقْبَلْتُ سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے علم کی نفی نہیں ہوتی،یہاں ظہور واقعہ مراد ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَوْ عَلِمَ اللہُ فِیۡہِمْ خَیۡرًا"یا جیسے"وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیۡنَ"الخ اب تک رب نے انہیں نہ جانا یا یہ کلام اظہار افسوس کے لیے ہوتاہے کہ اگر ہمیں پہلے سے یہ اندازہ ہوتا کہ تمہیں اتباع سنت کا اتنا شوق ہے تو ہم بھی ہدی نہ لاتے۔

۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قول و عمل میں تعارض ہو تو قول کو ترجیح ہوتی ہے کہ عمل میں خصوصیت کا احتمال ہے،یہ احناف کا مذہب ہے صحابہ کرام نے اطاعت خوشی سے کی نہ کہ ناراضگی سے،جو کچھ تامّل تھا وہ پہلے ہی ظاہرکر دیا۔اس لیے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یہ اطاعت منافقت سے تھی۔

۱۰؎ اس موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن کے ساعی تھے جو صدقات وصول فرمانے وہاں تشریف لے گئے تھے،غالبًا اس گفتگو کے بعد حضرت علی یمن سے یہاں پہنچے۔

۱۱؎ یعنی تم بھی ہماری طرح قارن ہو اورتمہارے ساتھ بھی ہماری طرح ہدی ہے لہذا تم بھی احرام نہ کھولو حج سے فارغ ہوکر کھولنا۔

۱۲؎  یعنی تا قیامت حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا درست ہوگیا وہ دستورختم کردیا گیا کہ شوال سے صفر تک عمرہ حرام ہو مگر حج کا فتح صرف اس سال کے لیے تھا آئندہ کبھی جائز نہ ہوگا۔یہ اشارہ جواز عمرہ کی طرف ہے نہ کہ فتح حج کی جانب،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے۔(مرقات و لمعات)
Flag Counter