Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
171 - 671
حدیث نمبر171
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ۱؎  ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا ۲؎  ہم جب مکہ آئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی لایا ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے۳؎ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ان دونوں سے حلال ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ہدی کی قربانی کرلے۴؎ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے ۵؎ فرماتی ہیں کہ میں کپڑوں سے ہوگئی حالانکہ میں نے بیت اﷲ کا طواف نہ کیا تھا نہ صفا اور مروہ کی سعی تو میں کپڑوں سے ہی رہی،حتی کہ عرفہ کا دن آگیا ۶؎ اور میں نے صرف عمرہ کا ہی احرام باندھا ہوا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں اپنے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور حج کا احرام باندھ لوں عمرہ چھوڑ دوں ۷؎  میں نے ایسا ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کرلیا ۸؎ میرے ساتھ عبدالرحمان ابن ابوبکر صدیق کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کی جگہ مقام تنعیم سے عمرہ کروں ۹؎ فرماتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اﷲ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر حلال ہوگئے ۱۰؎ پھر منٰی سے لوٹنے کے بعد ایک طواف کیا ۱۱؎ لیکن جنہوں نے حج وعمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۱۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  ہم تمام ازواج نبی صلی اللہ علیہ و سلم یا صحابہ کرام۔

۲؎  صرف حج کا یا حج مع عمرہ کا یا بعض نے صرف حج کا بعض نے حج و عمرہ دونوں کا۔غرضکہ صحابہ کے حالات مختلف تھے۔(مرقات)

۳؎  یعنی یہ دونوں قسم کے حضرات تمتع کریں،ہدی لانے والے تو ہدی کا تمتع کریں کہ درمیان میں حلال نہ ہوں اور ہدی نہ لانے والے بغیر ہدی کا تمتع کرےکہ درمیان میں حلال ہوجائیں۔خیال رہے کہ حج چار قسم کا ہوتا ہے: افراد، قران، تمتع ہدی والا،تمتع بغیر ہدی۔

۴؎  دونوں عبارتوں کا مطلب قریبًا یکساں ہے کیونکہ قارن اور ہدی والا تمتع دسویں بقرعید کو ہی قربانی کرتے ہیں اور اسی دن دونوں احراموں سے کھلتے ہیں۔

۵؎  یعنی افراد بالحج والا خواہ ہدی لایا ہو یا نہ لایا ہو بقر عید کے دن ہی احرام کھولے جیساکہ مفرد کرتے ہیں۔

۶؎ یعنی میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مگر حج سے پہلے عمرہ نہ کرسکی کیونکہ میں ایام آجانے کی وجہ سے طواف نہ کرسکی اور بغیر طواف صفا مروہ کی سعی ہوتی نہیں لہذا عمرہ کا کوئی رکن ادا نہ کرسکی۔خیال رہے اگر عورت کو طواف کے بعد ایام آجائیں تو وہ سعی کرسکتی ہے،اگر طواف سے پہلے آجائیں تو نہ طواف کرسکتی ہے نہ سعی۔

۷؎ اسے فسخ عمرہ یا رفض عمرہ کہتے ہیں کہ عمرہ کا احرام باندھ کر بغیر عمرہ کئے کھل جانا یعنی خلاف احرام افعال کر لینا۔

۸؎ اس طرح کہ حج کا احرام باندھ کر بغیرطواف قدوم کئے عرفات چلی گئی،پھرعرفات مزدلفہ منٰی کے افعال سے فارغ ہوکرطواف زیارت کرلیا کہ اب میں ایام سے فارغ ہوچکی تھی طواف قدوم ایام کی وجہ سے نہ کرسکی تھی،اب بھی عورت کو عارضہ آجانے پر یہ ہی حکم ہے کہ اسے طواف قدوم بلکہ طواف وداع بھی معاف ہوجاتا ہے۔

۹؎  تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر حدود حرم سے باہر جگہ ہے،اب وہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے،عام حجاج وہاں جاکر نفلی عمروں کا احرام باندھتے ہیں،یہ جگہ قریب ترین حد حرم ہے۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اپنا عمرہ چھوڑ دے اور بعد حج اس کی جگہ دوسرا عمرہ یعنی عمرہ قضا کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ کا تمتع ہوا نہ کہ قران اور یہ بعد والا عمرہ عمرہ واجبہ تھا نہ کہ عمرہ نفلی جیساکہ شوافع نے سمجھا۔

۱۰؎ یہ حضرات ۷ ذی الحجہ تک حلال رہے آٹھویں کو احرام باندھ کر منٰی روانہ ہوگئے جیساکہ تمتع والے اب بھی کرتے ہیں

۱۱؎  طواف زیارت جس کا وقت دسویں بقر عید سے بارھویں بقر عید کی شام تک ہے،یہ طواف فرض ہے۔

۱۲؎  یعنی قران  والوں نے بھی منٰی سے واپس ہوکر صرف ایک طواف ہی کیا،طواف زیارت انہوں نے قران  کی وجہ سے اب دو طواف نہ کئے لہذا یہ حدیث نہ تو احناف کے خلاف ہے نہ شوافع کی دلیل۔خیال رہے کہ قارن احناف کے نزدیک بعد ادائے عمرہ عرفات جانے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا اور بعد عرفات طواف زیارت کرے گا،امام شافعی کے ہاں قارن طواف قدوم نہیں کرتا،صرف بعد عرفات طواف زیارت کرتا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم قارن تھے مگر آپ نے عمرہ کے بعد طواف قدوم کیا، نیز دارقطنی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم قارن تھے مگر آپ نے عرفہ سے دو طواف کئے اور دو سعی،ایک طواف وسعی عمرہ کا،دوسرا طواف وسعی حج کا،نیز طحاوی نے عمران ابن حصین،علی،عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ قارن دو طواف کرے اور دو سعی لہذا اس حدیث عائشہ کے یہ ہی معنی ہیں کہ عرفات کے بعد قارن صحابہ رضی اللہ عنھم نے ایک طواف کیا تاکہ تمام احادیث جمع ہوجائیں اور یہ حدیث ہماری پیش کردہ احادیث کے خلاف نہ ہو۔
Flag Counter