۱؎ وداع واؤ کے فتح یا کسرہ سے بمعنی رخصت ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حج اسلام صرف ایک یہ ہی کیا ہے جو ۱۰ھ میں ہوا،چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حج میں لوگوں کو وداعیہ کلمات فرمائے اور اپنی وفات شریف کی خبر دی اس لیے اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔حجۃ الوداع کا تفصیلی واقعہ حضرت جابر ہی سے مروی ہے۔امام محمد باقر نے بھی حضرت جابر سے احادیث اور حجۃ الوداع کا واقعہ روایت کیا،حضور انور نے فرمایا تھا کہ اے جابر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص تم سے علم لے گا۔(اشعہ)
حدیث نمبر170
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداﷲ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نو برس مدینہ پاک میں مقیم رہے کہ حج نہ کیا ۱؎ پھر دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کیا گیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم حج کو تشریف لے جانے والے ہیں چنانچہ بہت ہی لوگ مدینہ پاک میں آگئے ۲؎ ہم آپ کے ہمراہ نکلے ۳؎ حتی کہ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد ابن ابوبکر صدیق پیدا ہوئے۴؎ ان بی بی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ اب میں کیا کروں ۵؎ فرمایا نہالو اور کوئی کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو ۶؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں نماز ادا کی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے ۷؎ حتی کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر میدان میں سیدھی کھڑی ہوئی تو حضور نے کلمہ توحید بلند آواز سے پکارا ۸؎ حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ۹؎ بے شک تعریف نعمت ملک تیر ے ہیں تیرا کوئی شریک نہیں حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم صرف حج ہی کی نیت سے تھے عمرہ کوجانتے بھی نہ تھے۱۰؎ حتی کہ ہم جب کعبہ شریف میں حضور انور کے ساتھ پہنچے ۱۱؎ تو حضور نے رکن کو بوسہ دیا پھر سات پھیرے طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں معمولی چال چلے۱۲؎ پھر مقام ابراہیم پرتشریف لائے تو یہ آیت تلاوت کی کہ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام کو اپنے اور بیت اﷲ کے درمیان کرلیا ۱۳؎ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں ر کعتوں میں قل ھو اﷲ احد اور قل یا ایہا الکافرون پڑھیں۱۴؎ پھر رکن اسود کی طرف لوٹے اسے چوما پھر دروازے سے صفا پہاڑ کی طرف تشریف لے گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو یہ آیت تلاوت کی کہ صفا و مروہ اﷲ کی دینی نشانیوں میں سے ہیں ہم اس سے ابتداء کریں گے جس سے رب نے ابتداء کی چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی ۱۵؎ اس پر چڑھے حتی کہ کعبہ معظمہ کو دیکھ لیا تو کعبہ کو منہ کیا اﷲ کی توحید و تکبیر بیان کی ۱۶؎ اور فرمایا اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۷؎ اﷲ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اپنے بندے کی مدد کی اس اکیلے نے احزاب کو بھگایا۱۸؎ پھر ان ذکروں کے درمیان دعا مانگی ۱۹؎ تین بار یہ فرمایا ۲۰؎ پھر اترے پھر مروہ کی طرف چلے حتی کہ بطن وادی میں آپ کے قدم شریف برابر سیدھے ہوگئے ۲۱؎ پھر دوڑے حتی کہ جب آپ کے قدم چڑھنے لگے تو معمولی چال چلے ۲۲؎ حتی کہ مروہ پہنچے پھر مروہ پر وہ ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا ۲۳؎ حتی کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ نے آواز دی حالانکہ آپ مروہ پر تھے اور لوگ آپ سے نیچے تو فرمایا اگر ہم اس کام کا پہلے سے خیال کرتے جس کا بعد میں خیال آیا تو ہم ہدی نہ لاتے اور اسے عمرہ قرار دیتے ۲۴؎ لہذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنالے ۲۵؎ تب حضرت سراقہ ابن مالک بن جعشم کھڑے ہو کر بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا یہ حکم ہمارے اس ہی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ۲۶؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں اور دوبارہ فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۲۷؎ جناب علی یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے ۲۸؎ تو ان سے حضور نے پوچھا کہ جب تم نے حج کی نیت کی تو کیا کہا تھا عرض کیا میں نے کہا تھا الٰہی میں اس کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول نے باندھا ۲۹؎ فرمایا میرے ساتھ تو ہدی ہے لہذا تم حلال نہ ہونا۳۰؎ راوی فرماتے ہیں کہ مجموعہ ان ہدیوں کا جو جناب علی یمن سے لائے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم لائے کل سو تھا ۳۱؎ فرماتے ہیں پھر تمام لوگ حلال ہوگئے اور بال کٹوالیے ۳۲؎ سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اور ان حضرات کے جن کے ساتھ ہدی جانور تھا ۳۳؎ پھر جب آٹھویں بقرعید ہوئی تو لوگوں نے منی کا رخ کیا تب حج کا احرام باندھا۳۴؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوئے تو منی میں ظہر،عصر، مغرب،عشاء اور فجر پڑھی ۳۵؎پھر تھوڑا ٹھہرے حتی کہ سورج نکل آئے اور حضور نے حکم دیا تھا تو نمرہ میں حضور کے لیے اونی خیمہ لگادیا گیا تھا۳۶؎ چنانچہ رسول اﷲ چلتے رہے قریش کو اس میں شک و تردد ہی نہ تھا کہ آپ مشعر حرام کے پاس قیام کریں گے ٹھہر جائیں گے ۳۷؎ جیسے اسلام سے پہلے قریش کر تے تھے ۳۸؎ مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفہ پہنچ گئے تو آپ نے مقام نمرہ میں خیمہ لگا ہوا پایا وہاں ہی اتر پڑے ۳۹؎ حتی کہ سورج ڈھل گیا تو اونٹنی قصواء کا حکم دیا اسے کجاوا کس دیا گیا آپ بطن وادی میں تشریف لائے ۴۰ ؎ لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تمہارے خون تمہارے آپس کے مال تم پر یوں ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس مہینہ اور اس شہر میں حرمت ۴۱ ؎ خبردار رہو زمانہ جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدم کے نیچے روند دی گئیں ۴۲؎ اور جاہلیت کے زمانہ کے خون ختم کردیئے گئے ۴۳؎ میں اپنے خونوں میں سے پہلا خون ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ ابن حارثہ کا خون ہے۴۴؎ یہ بنی سعد میں شیر خوار تھے تو انہیں قوم ہذیل نے قتل کردیا تھا۴۵؎ اور جاہلیت کے زمانہ کے سود ختم ہیں میں اپنے سودوں میں سے پہلا سود ختم کرتاہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سارا ہی ختم ۴۶؎ عورتوں کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرو کہ تم نے انہیں اﷲ تعالٰی کی امان میں لے لیا ہے اور کلمہ الہیہ سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۴۷؎ تمہارے ان پر یہ حقوق ہیں کہ وہ تمہارے بستروں کو ان سے پامال نہ کرائیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ۴۸؎ پھر اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو تم انہیں غیر مہلک مار مارو ۴۹؎ اور عورتوں کی تم پر بھلائی سے ان کی روزی اور بھلائی سے ان کا کپڑا ہے ۵۰؎ میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اس کے ہوتے تم کبھی گمراہ نہ ہو گے جب تک تم اسے تھامے رہے یعنی قرآن کریم ۵۱؎ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے،سب بولے ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ فرمادی اور امانت ادا کردی اور خیر خواہی فرمائی۵۲؎ تو آپ نے اپنے کلمہ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکائی فرمایا خدایا گواہ ہوجاؤ خدایا گواہ ہوجاؤ (تین بار)۵۳؎ پھر حضرت بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز ظہر پڑھی پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھ لی ان دو نمازوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا ۵۴؎ پھر سوار ہوئے حتی کہ عرفات کے جائے قیام پرتشریف لائے تو اپنی قصواء کا پیٹ بڑے پتھروں کی طرف کردیا اور حبل مشاۃ کو اپنے سامنے لیا اور قبلہ کو منہ کیا ۵۵؎ پھر وہاں اتنا ٹھہرے رہے کہ سورج ڈوب گیا اور کچھ زردی غائب ہوگئی تا آنکہ سورج کی ٹکیہ پوری چھپ گئی۵۶؎ اور حضرت اسامہ کو ردیف بنایا اور روانہ ہوگئے حتی کہ مزدلفہ پہنچ گئے ۵۷؎ پھر وہاں ایک اذان اور دو تکبیروں سے نماز مغرب و عشاء پڑھی درمیان میں نوافل کچھ نہ پڑھے ۵۸؎ پھر کچھ لیٹ گئے ۵۹؎ حتی کہ فجر طلوع ہوگئی تو سویرا چمکتے ہی اذان و تکبیر کے ساتھ فجر پڑھی ۶۰؎ پھر قصواء پر سوار ہولیے حتی کہ مشعر پہاڑ کے پاس تشریف لائے پھر قبلہ کو منہ کیا اور رب سے دعا مانگی تکبیر وتہلیل و توحید کہتے رہے وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب اجیالا ہوگیا ۶۱؎ تو سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوگئے اور حضرت فضل ابن عباس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا ۶۲؎ حتی کہ بطن وادی میں آئے تو اپنی اونٹنی کو کچھ حرکت دی۶۳ ؎ پھر درمیانی راستے پر پڑ گئے جو بڑے جمرے پر نکلتا ہے ۶۴؎ حتی کہ اس جمرہ پر پہنچے جو درخت کے پاس ہے ۶۵؎ تو اسے سات کنکر مارے جن میں سے ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہتے تھے جو کنکرٹھیکری جیسے تھے ۶۶؎ بطن وادی سے رمی کی ۶۷؎ پھر قربانی گاہ کی طرف لوٹے تو تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے قربانی کئے پھر حضرت علی کو مرحمت فرمائے تو بقیہ انہوں نے قربانی کئے ۶۸؎ اور حضور نے انہیں اپنی ہدی میں شریک کر لیا ۶۹؎ پھر حکم دیا تو ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں ڈالی اور پکائی گئی تو ان دونوں صاحبوں نے وہ گوشت کھایا اس کا شوربا پیا ۷۰؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوئے اور بیت اﷲ شریف چلے تو نماز ظہر مکہ میں پڑھی ۷۱؎ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جو زمزم پر پانی کھینچ رہے تھے فرمایا اے نبی عبدالمطلب کھینچے جاؤ ۷۲؎ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ سب لوگ تمہارے پاس کھینچنے میں تم پر غلبہ کرلیں گے تو میں تمہارے ساتھ پانی کھینچتا۷۳؎ لوگوں نے حضور کو ڈول پیش کیا آپ نے اس سے پیا ۷۴؎(مسلم)۷۵؎
شرح
۱؎ حج ۶ھ یا ۹ھ میں فرض ہوا مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرض ہوتے ہی نہ کیا کہ آپ کو اپنی زندگی شریف کی خبر تھی کہ ابھی وفات نہیں ہے،ہم پرفورًا اس لیے فرض ہوتاہے کہ ہمیں زندگی کی خبر نہیں، ۱۰ھ میں حج کیا،اسی کا نام حجۃ الوداع ہے لہذا حضور انور نے بعد فرضیت حج صرف ایک حج کیا،حضور نے عمرے کل چار کئے ہیں۔ ۲؎ مرقات نے فرمایا کہ کل ایک لاکھ تیس ہزار حجاج جمع ہوگئے۔اشعہ میں ہے کہ وہ حضرات ایک لاکھ تھے یا ایک لاکھ چودہ ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار، ہوسکتا ہے کہ اولًا تھوڑے ہوں،آگے جاتے ہوئے ملتے ہوں گے۔خیال رہے کہ کل صحابہ ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں سے اصحاب بدر تین سو تیرہ،پھر ان میں خلفائے راشدین چار،ان میں سے حضرت ابوبکر صدیق افضل الخلق بعد الانبیاء ہیں جیسے نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں،رسول تین سو تیرہ،مرسلین چار،ان میں سے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم افضل الخلق ہیں۔دیکھو ہماری کتاب"امیرمعاویہ"۔یہ حضرات اپنے گھر سے سیدھے مکہ معظمہ نہ پہنچ گئے بلکہ پہلے مدینہ منورہ حاضر ہوئے تاکہ کعبہ ایمان کے ساتھ کعبہ اجسام کی طرف سفر کریں،اب بعض عشاق پہلے مدینہ منورہ حاضر ہوتے ہیں،پھر مکہ معظمہ اسی سنت پرعمل کرنے کے لیے،بعض اس کے برعکس کرتے ہیں وللناس فیما یعشقون مذاھب۔ ۳؎ یہ روانگی ۲۵ ذیقعدہ ۱۰ھ بعد ظہر ہوئی جیساکہ ترمذی،ابن ماجہ نے حضرت انس سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی جس کجاوے پر حضور انور سوار تھے اس کی قیمت چار درہم یعنی ایک روپیہ دو آنے تھی۔(مرقات) ۴؎ اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کی زوجہ تھیں،ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں،آپ کے بعد حضرت علی مرتضٰی نے نکاح کیا،محمد ابن ابی بکران سے پیدا ہوئے،پھر حضرت علی سے یحیی ابن علی انہیں کے بطن سے پیدا ہوئے۔(مرقات)محمد ابن ابوبکر صدیق صغر سن صحابی ہیں، ۳۸ھ میں اصحاب امیر معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(مرقات) ۵؎ یعنی میں اس حالت میں احرام یا حج کیسے ادا کروں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے ذوالحلیفہ میں عصر، مغرب،عشاء اور اگلی فجر و ظہر پڑھیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام ازواج پاک آپ کے ساتھ تھیں۔(مرقات) حضرت اسماء کا جوش ایمانی اور شوق حج قابل داد ہے کہ اس حالت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوگئیں۔ ۶؎ یعنی نفاس نہ تو احرام سے مانع ہے نہ ادائے حج و عمرہ سے صرف طواف ممنوع ہے کہ وہ مسجد میں ہوتا ہے اور نفساء کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں اور احرام کے وقت یہ عورت نفل نہ پڑھے کہ نفاس میں نماز پڑھنا حرام ہے ۔ ۷؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے احرام کے نفل علاوہ فرض ظہر کے ادا کئے،پھر قصواء پر سوار ہوئے۔قصواء قصی بمعنی دوری سے بنا،یا قصوٌ بمعنی کان کٹنے سے بنا،چونکہ یہ اونٹنی بہت تیز رفتار اور دور تک جانے والی تھی یا چونکہ اس کے ایک کان کا کچھ حصہ کٹا ہوا تھا اس لیے اسے قصواء کہتے تھے،یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری کی خاص اونٹنی تھی۔ ۸؎ یہاں اھل کے معنی ہیں بلند آواز سے پکارا،توحید سے مراد ہے رب تعالٰی کی وحدانیت یعنی رب کی توحید پکاری،چونکہ تلبیہ میں لاشریك لك بھی ہوتا ہے اس لیے بالتوحید فرمایا۔بعض شوافع نے توحید کے معنی اذا و حج کئے یعنی صرف حج کا تلبیہ فرمایا اور اس سے ثابت کیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے افراد کیا مگر یہ معنی بہت ہی بعید ہیں،قوی وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا لہذا یہ جملہ شوافع کی تائید نہیں اور احناف کے خلاف نہیں۔ ۹؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حاجی کا لبیك کہنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پکار اور بلاوے کا جواب ہے۔چنانچہ حاکم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا کہ جب جناب خلیل بناء کعبہ سے فارغ ہوئے تو رب نے فرمایا لوگوں کو حج کے لیے بلاؤ،عرض کیا مولٰی میری آواز سب تک کیسے پہنچے گی فرمایا پکارنا بلانا تمہار ا کام ہے تمہاری آواز سب تک پہنچاناہمارا کام۔چنانچہ آپ نے پکارا زمین وآسمان میں آپ کی آواز پہنچی اور یہ لَبَّیْك اسی پکار کا جواب ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ بحکم پروردگار نبی کی آواز زمین و آسمان میں پہنچ سکتی ہے،آج بذریعہ ریڈیو(Radio)تار(Telegraph)کی طاقت سے لاکھوں میل دور آواز پہنچا دی جاتی ہے تو نورکی طاقت نار سے کہی زیادہ ہے۔ ۱۰؎ کفار عرب اسلام سے پہلے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا سخت گناہ اور بدترین جرم سمجھتے تھے ماہ صفر سے عمرہ جائز مانتے تھے۔چنانچہ حضرات صحابہ کا اس موقعہ پر عمرہ کی طرف دھیان بھی نہ گیا۔بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ حضور انور نے احرام کے وقت ہی لوگوں کو احرام کے اقسام بتا کر فرما دیا تھاکہ جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ یہ احرام باندھے،جو عمرہ کرنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھے۔(مرقات) ۱۱؎ اس طرح کہ تین ذی الحجہ ہفتہ کے دن ذی طوی پہنچ گئے وہاں رات گزاری اور۴ ذی الحجہ اتوار کے دن صبح کے وقت باب السلام کی طرف سے مسجد حرام میں داخل ہوئے اور سب سے پہلے طواف قدوم کیا،بیت اﷲ شریف کی تحیۃ طواف ہے دوسری مسجدوں کی تحیۃ دو رکعت نفل۔ ۱۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم دروازہ سلام سے سیدھے رکن اسود پر پہنچے اس کو بوسہ دے کر طواف قدوم کیا،طواف میں اکڑکر چلنے کو رمل کہتے ہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تین چکروں میں رمل کیا یعنی پہلوان کی طرح اظہار قوت دکھاتے چلے،رمل کی وجہ اور جگہ بیان ہوگی۔ان شاء اﷲ اور چار چکر آہستہ معمولی رفتار پر۔ ۱۳؎ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر جناب خلیل اﷲ نے کعبہ کی دیواریں اونچی فرمائیں ہر -طواف کے بعد دو نفل پڑھے جاتے ہیں،یہ نفل اسی جگہ پڑھنا سنت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس پتھر پر نبی کے قدم پڑ جائیں وہ پتھر بھی قابل احترام ہوجاتا ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ عین نماز میں بزرگوں کے تبرکات کی تعظیم کرنا ثواب ہے شرک نہیں تو جو کہے نماز میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خیال کرنا شرک ہے وہ دراصل حضور کی اہانت کرتا ہے،جب جناب خلیل اﷲ کے نشانِ قدم والے پتھر کو آگے رکھ کرنماز پڑھنا درست ہوا تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا درجہ تو بہت اعلٰی ہے۔ ۱۴؎ واؤ ترتیب کے لیے نہیں صرف جمع کے لیے ہے یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان نفل طواف کی پہلی رکعت میں قل یا ایھا الکفرون اور دوسری رکعت میں قل ھو اﷲ احد پڑھی کہ یہ جگہ پہلے بت خانہ بنی ہوئی تھی۔اب رب تعالٰی کے کرم سے پاک و صاف ہوئی تو پہلی رکعت میں شرک سے بیزاری کا اظہار اور دوسری رکعت میں توحید الٰہی کا اعلان فرمایا،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم آہستہ قرأت میں بھی بعض لفظ اونچی آواز سے پڑھ دیتے تھے۔اس لیے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ فلاں رکعت میں فلاں سورت پڑھی۔ ۱۵؎ باب الصفا سے صفا پہاڑ کی طرف گئے اور یہ آیت پڑھ کر صفا پر کچھ چڑھے وہاں دعائیں مانگیں۔خیال رہے کہ صفا مروہ وہ پہاڑ ہیں جن پر بی بی ھاجرہ رضی اللہ عنہا تلاش پانی میں سات بار چڑھیں،چونکہ ان پہاڑوں کو اس بی بی پاک کی قدم بوسی میسر ہوئی اس لیے انہیں رب تعالٰی نے شعائراﷲ یعنی اﷲ کے دین کی نشانیاں قرار دیا۔معلوم ہواکہ بزرگوں کے مزارات ان کے تبرکات شعائر اﷲ بن جاتے ہیں،ان کی تعظیم ثواب ہے شرک نہیں۔سعی میں صفا سے شروع کرنا سنت ہے اور حج میں صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے ر کن نہیں،یہ ہی مذہب احناف ہے۔ ۱۶؎ اس زمانہ میں صفا اور کعبہ معظمہ کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی اس لیے صفا پر کچھ چڑھنے میں کعبہ معظمہ نظر آتا تھا،اب آڑ واقع ہوچکی ہے اب کعبہ معظمہ نظر نہیں آتا لیکن نظر آنا ضروری نہیں صرف کعبہ کو منہ کرنا ضروری ہے۔اب تو صفا پہاڑ پر حرم مسجد وسیع کردی گئی ہے کہ سعی مسجد ہی میں ہوتی ہے۔ ۱۷؎ اب بھی سنت یہ ہے کہ صفا شریف پر یہ ہی دعا پڑھی جائے۔ ۱۸؎ اس کلمہ میں غزوہ خندق کی طرف اشارہ ہے جب کہ ہر قسم کے کفار نے متفقہ طور پر مدینہ طیبہ پر یلغار کی تھی،رب تعالٰی نے تیز سرد ہوا کے ذریعہ انہیں بھگادیا۔اس سے معلوم ہوا کہ سخت مصیبت کا وقت یاد رکھنا اور اس کے دفعیہ پر رب تعالٰی کا شکرکر تے رہنا سنت ہے،یہ واقعہ بہت پہلے ہوچکا تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم آخر دم تک وقتًا فوقتًا اس کا ذکر فرماتے رہے رب تعالٰی کی حمدوشکر کے لیے۔ ۱۹؎ اس طرح کہ پہلے بھی اﷲ کا ذکر کیا بعد میں بھی اور درمیان میں دعائیں مانگیں،سنت یہ ہی ہے کہ دعا اﷲ کے ذکر سے گھری ہو کہ ایسی دعا ان شاءاﷲ رد نہیں ہوتی۔ ۲۰؎ اولًا ذکر الٰہی پھر دعا پھر ذکر الٰہی یہ ایک بار ہو،اس طرح تین دفعہ عمل کیا،حاجی اسی پر عمل کرے۔ ۲۱؎ یعنی صفا کی ڈھلائی اور مروہ کی چڑھائی کے درمیان جو ہموار زمین ہے جسے بطن وادی کہتے ہیں وہاں سعی کی۔سعی کے معنی ہیں دوڑ لگانا،چونکہ اسی جگہ حضرت ہاجرہ دوڑی تھیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی جگہ سعی فرمائی،اس مقبول بی بی کی پوری نقل اتارنا سنت ہے،مقبولوں کی نقل بھی اچھی کہ اﷲ تعالٰی اصل کے طفیل نقل پر کرم فرمادے،بطن وادی لغۃً پہاڑ یا ٹیلے کے درمیان شگاف کو کہتے ہیں۔ ۲۲؎ یعنی جب مروہ شریف کی چڑھائی شروع ہوئی تو پھر معمولی رفتار سے چلنا شروع فرمادیا،دوڑ ختم کردی۔ ۲۳؎ یعنی اس قدر چڑھنا کہ کعبہ معظمہ سامنے آجائے،کعبہ معظمہ کو منہ کرنا اﷲ کا ذکر و دعائیں کرنا۔غرضکہ جو کچھ صفا پر کیا وہ ہی مروہ پر بھی کیا،وہ ہی دعائیں و ذکر جو صفا پر کیا تھا وہ ہی مروہ پر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدل سعی فرمائی سواری پر نہ کی،یہ ہی سنت ہے بلاعذر سواری پر سعی کرنا خلاف سنت ہے۔مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سواری پر سعی فرمائی وہ عمرہ قضاء کا واقعہ ہے اور وہ سوار ہونا بھی دشواری و معذوری کی وجہ سے تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھنے کے لیے مکہ والے ہجوم بن کر آئے اور حضور کے پاس سے ہٹتے نہ تھے،پیدل سعی ناممکن ہوگئی تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات) ۲۴؎ یعنی ہم نے قران کا احرام باندھ لیا اور ہدی ہمارے ساتھ ہے،اب ہم کو عمرہ کر کے احرام کھول دینا جائز نہ رہا۔اور ہم نے تم کو حکم دیا کہ عمرہ کر کے احرام کھول دو شاید تم کو احرام کھولنا گراں گزرے کہ تم ہماری سنت پر عمل کرنے کے دلدادہ ہو تم ہمارے سے اعمال کرنا چاہتے ہو اگر ہمیں احرام سے پہلے یہ خیال آجاتا تو ہم ہدی ساتھ نہ لاتے اور نہ قران کا احرام باندھتے اور ہم بھی عمرہ کر کے کھل جاتے تاکہ تم کو عمرہ پر کھل جانا گراں نہ ہوتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قران کیا اور قران ہی افضل ہے۔دوسروں کو عمرہ کر کے کھل جانے کا حکم ایک مصلحت کی بناء پر دیا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ زمانہ جاہلیت میں حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا اور حج کے قریب تک حلال رہنا سخت گناہ سمجھا جاتا تھا،وہ رسم توڑنا تھی۔دوسرے یہ کہ صحابہ کرام حضور کی ہر ادا کی نقل کرنا سعادت سمجھتے تھے۔ ۲۵؎ یعنی صرف حج یا عمرے کا احرام بندھا ہو اور اس کے ساتھ ہدی ہوتو ہدی کی قربانی کے بعد احرام کھولے دسویں ذی الحجہ کو مگر جس نے حج یا عمرہ کا احرام باندھا ہو اور اس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ عمرے کے افعال ادا کر کے احرام کھول دے اس طرح کہ حج کے احرام کو عمرہ بنادے،اسے فتح حج الی العمرۃ کہتے ہیں۔یہ فتح صرف اس سال ہی صحابہ کے لیے جائز ہوا،اب تاقیامت کسی کو جائز نہیں اب حج کا احرام بعد حج ہی کھل سکتا ہے۔چنانچہ روایات میں ہے کہ بلال ابن حارث نے عرض کیا یارسول اﷲ فتح ہمارے لیے خاص ہے یا آئندہ بھی ہوگا،فرمایا صرف تمہارے لیے خاص طور پر ہے۔ (مرقات) ۲۶؎ چار وجہ سے یہ حکم حاضرین پر گراں ہوا:ایک تو زمانہ حج میں عمرہ کرناکیونکہ اسلام سے پہلے زمانہ حج میں عمرہ گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔دوسرے حج کا احرام عمرہ کر کے کھول دینا اور تیسرے یوم عرفات کے قریب احرام کھولنا۔ چوتھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع میسر نہ ہونا کہ حضور تو احرام میں ہیں اور ان حضرات کے احرام کھل گئے،سرکار کا یہ حکم صرف اس لیے تھا کہ لوگ اس زمانہ میں عمرہ کو گناہ نہ سمجھیں۔حضرت سراقہ ابن مالک نے بھی پہلے مسئلہ کے متعلق سوال کیا کہ یارسول اﷲ زمانہ حج میں عمرہ کا جواز صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے،بقیہ تین مسائل کے متعلق نہیں ہے جیساکہ جواب عالی سے معلوم ہورہا ہے لہذا اب فتح حج ہرگز جائز نہیں۔ ۲۷؎ یعنی عمرہ کا جواز زمانہ حج میں قیامت کے لیے ہے،امام احمد اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ فتح حج الی العمرۃ تاقیامت رہے گا۔ان کے ہاں اب حج کا احرام عمرہ کر کے کھول سکتے ہیں مگر امام ابوحنیفہ شافعی،مالک و جمہور علماء رضی اللہ عنہم کے ہاں نہیں کرسکتے،ان کی دلیل مسلم کی یہ حدیث ہے کہ متعہ یعنی فتح حج صرف صحابہ کے لیے تھا اور نسائی کی وہ روایت ہے کہ یارسول اﷲ فتح حج صرف ہم لوگوں کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے فرمایا صرف ہم لوگوں کے لیے۔(مرقات و لمعات)ہاں یہ جائز ہے کہ عمرہ کا احرام والا جب عمرہ نہ کرسکے کہ تنگ وقت میں مکہ معظمہ پہنچے یا عورت کو حیض آجائے جس سے وہ طواف نہ کر سکے تو اس پر حج کا احرام باندھ لے پہلے حج کرے بعد میں عمرہ جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس موقعہ پر کیا تھا۔ ۲۸؎ اس زمانہ میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ یمن کے قاضی بنا کربھیجے گئے تھے انہیں وہاں ہی اطلاع دے دی گئی تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم حج کو جارہے ہیں تم مکہ معظمہ پہنچو اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے کچھ ہدیٰ ساتھ لیتے آؤ کچھ اونٹ تو حضور خود لے گئے تھے اور بہت سے اونٹ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے جناب علی رضی اللہ عنہ لے کر آئے تھے کل سو اونٹ ہوگئے تھے۔ ۲۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ حج میں تعلیقًا نیت کرسکتے ہیں کہ خدایا جو فلاں بزرگ کی نیت وہ میری نیت،نماز میں تعلیق نیت درست نہیں جیساکہ فقہ میں مصرح ہے۔ ۳۰؎ یعنی ہماری طرح تمہارا احرام بھی قران کا ہوگیا اور ہمارے ساتھ بھی ہدی ہے تمہارے ساتھ بھی لہذا ہماری طرح تم بھی عمرہ کر کے احرام پر قائم رہنا۔خیال رہے کہ جناب علی اپنے لیے بھی ہدی لائے تھے۔ ۳۱؎ یہ نہیں پتہ لگا کہ حضور انور مدینہ منورہ سے اپنے ہمراہ کتنے اونٹ قربانی کے لیے لائے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کتنے لائے،بعض نے فر مایا کہ چالیس اونٹ سرکار لائے تھے اور ساٹھ اونٹ حضرت علی۔واﷲ اعلم! ۳۲؎ اس سے حضرت عائشہ صدیقہ علیحدہ ہیں کہ آپ کے ساتھ ہدی نہ تھی پھربھی آپ کو حلال ہوجانے کا حکم نہ دیا گیا بلکہ عمرہ کے احرام پر حج کا احرام بندھوا دیا گیا۔(مرقات)خیال رہے کہ احرام کھولتے وقت سرمنڈانا افضل ہے مگر صحابہ نے اس موقع پر بال کٹوائے تھے منڈائے نہیں کیونکہ عنقریب ہی انہیں حج کا احرام باندھ کر کھولنا تھا،اس وقت تک منڈے ہوئے بال بڑھ نہ سکتے تھے،نیز انہوں نے چاہا کہ ہم محلقین رؤسکم و مقصرین دونوں پر عمل کریں،اس وقت بال کٹوالیے اور حج کا احرام کھولتے وقت منڈوا دیئے۔(اشعہ) ۳۳؎ کہ وہ حضرات حلال نہ ہوئے مگر وہ تھوڑے تھے،زیادہ تر بغیر ہدی والے تھے۔ ۳۴؎ آٹھویں ذی الحجہ کو ترویہ کہتے ہیں بمعنی سیراب کرنا یا بمعنی غور کرنا،چونکہ اہل عرب حج کے لیے آٹھویں ذی الحجہ کو اونٹ کو پانی پلالیتے تھے یا حضرت خلیل اﷲ نے آٹھویں ذی الحجہ کو اپنی خواب کے متعلق غور کیا تھا کہ قربانی کس چیز کی دوں اس لیے اسے ترویہ کہتے ہیں۔غرضکہ ترویہ یا رویٌ سے ہے یا رایٌ سے۔منٰی کے معنی ہیں بہانا،چونکہ اس میدان میں قربانیوں کا خون بہایا جاتا ہے لہذا منے کہا جاتا ہے۔ ۳۵؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام صحابہ آٹھویں ذی الحجہ کی نماز فجر پڑھ کر سورج نکلتے مکہ معظمہ سے منٰی روانہ ہو گئے،منٰی کا یہ قیام احناف کے ہاں واجب نہیں سنت ہے۔ ۳۶؎ نمرہ عربی میں چیتے کو کہتے ہیں،عرفات کے قریب کنارہ حرم پر ایک پہاڑی کا نام نمرہ ہے جس پر حضرت عمر نے مینار بنایا تھا تاکہ حد حرم کی علامت رہے،چونکہ اس پر سیاہ و سفید پتھر ہیں جو چیتے کے داغ کے مشابہ ہیں اس لیے اسے نمرہ کہتے ہیں۔(لمعات و اشعہ)اس جگہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قیام کے لیے خیمہ لگادیا گیا تھا۔معلوم ہوا کہ عرفات وغیرہ میں پہلے سے اپنے واسطے خیمہ لگالینا جگہ پر قبضہ کرلینا جائز ہے جیساکہ عمومًا معلم حضرات آج کل کرتے ہیں اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ۳۷؎ اسلام سے پہلے کفار عرب کا دستور تھا کہ قریش مکہ تو مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے،عرفات نہ پہنچتے تھے اور عوام حجاج عرفات شریف جاتے تھے،تمام مسلمانوں کو یقین تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بھی مزدلفہ میں ہی قیام کریں گے عرفات تشریف نہ لے جائیں گے کہ آپ تو قریش کے سردار ہیں،قرشی ہی، ہاشمی ہیں،مطلبی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔مرقات نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ظہورنبوت سے پہلے جو حج کئے ان میں عوام کے ساتھ عرفات شریف میں ہی قیام فرماتے رہے۔ ۳۸؎ قریش کہتے تھے کہ ہم حرم شریف کے کبوتر ہیں حرم سے باہر نہ جائیں گے عرفات حرم سے باہر ہے،نیز اس میں اپنا شرف بھی ظاہر کرتے تھے کہ ہم سردار معلوم ہوں۔ ۳۹؎ یعنی اس قبہ میں قیام پذیر ہوئے۔معلوم ہوا کہ بحالت احرام چھت،چھتری،خیمہ وغیرہ کا سایہ لینا جائز ہے،امام مالک و احمد کے ہاں ممنوع ہے،یہ حدیث ان کے خلاف نہیں۔ ۴۰؎ بطن وادی عرفات میں ایک میدان کا نام ہے جسے بطن عرفہ بھی کہتے ہیں،یہ جگہ عرفات میں داخل نہیں ہے،یہاں مسجد ابراہیم ہے۔صحیح یہ ہے کہ ابراہیم قبیس عباسی کی طرف منسوب ہے،اب بھی نماز ظہر و عصر وہاں ہی ہوتی ہے،اسی میدان میں ہی مسجد شریف واقع ہے جسے مسجدنمرہ کہتے ہیں۔ ۴۱؎ یعنی جیسے ماہ ذی الحجہ خصوصًا عرفہ کے دن حرم شریف کی زمین میں گناہ کرنا بدترین جرم ہےکہ اس میں تین جرموں کا مجموعہ ہے:گناہ جرم محترم جگہ کی بے حرمتی جرم،حرمت والی تاریخ و مہینہ کی بے ادبی جرم،ایسے ہی مسلمان کا خون بہانا،مال مارنا کئی جرموں کا مجموعہ ہے کہ یہ ظلم بھی ہے اور اﷲ تعالٰی کی ناراضی کا باعث بھی اور میری تکلیف و ایذاء کا سبب بھی ہے،بعض نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نفس یعنی خون کی حرمت کو حرم شریف کی حرمت سے تشبیہ دی جو دائمی و باقی ہے اور حرمت مال کو اس زمانہ کی حرمت سے تشبیہ دی جو عارضی ہے مگر پہلی توجیہ قوی ہے اور یہ کلام شریف بہت ہی بلیغ ہے۔ ۴۲؎ یعنی ہم نے اسلام سے پہلے والی تمام بری رسمیں مٹا دیں،نوحہ،ماتم،بتوں کے نام کے ذبیحہ وغیرہ تمام مٹادیں،اب کوئی وہ رسوم ادا نہ کرے۔ ۴۳؎ یعنی اسلام سے پہلے جو ظلمًا خون کردیئے گئے تھے اور ان کا قصاص باقی تھا وہ تمام خون معاف کردیئے گئے اب ان میں سے کسی قاتل پر قصاص نہیں،اب نیا راج ہے نیا راجہ،نیا دور ہے نئے دور والا محبوب صلی اللہ علیہ و سلم۔ ۴۴؎ اس بچے کا نام ایاس ابن ربیعہ ابن حارث ابن عبدالمطلب ہے،حارث حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ہیں،ان کے بیٹے ربیعہ صحابی ہیں جنہوں نے خلافت فاروقی میں وفات پائی۔ ۴۵؎ اس طرح کہ بنی سعد و ہذیل قبیلوں میں جنگ ہوئی تھی۔ہذیل کا ایک پتھر ایاس کے لگا جس سے وہ وفات پاگئے۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں دم ربیعہ ہے بغیر ابن کے،خون سے مراد ربیعہ کے خون کا مطالبہ ہے جس کے وہ ولی ہیں ورنہ مقتول ایاس ابن ربیعہ ہیں نہ کہ خود ربیعہ۔ ۴۶؎ یعنی زمانہ جاہلیت کے تمام غصب کئے ہوئے لوٹے ہوئے اور سودی کاروبار کے مال معاف ہیں جن کے ذمہ کسی کا قرض ہے اور سودبھی چڑھا ہوا ہے ان کے سود معاف،وہ اصل رقم ادا کردے۔حضرت عباس اسلام سے پہلے سود لیتے تھے،ان لوگوں پر بہت قرض و سود تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے معاف فرمادیئے ۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کے جان و مال کے مالک ہیں،دیکھو آپ بذات خود خون بھی معاف فرمارہے ہیں اور مال بھی ان حق والوں سے معاف نہیں کرایا۔دوسرے یہ کہ قانون پر پہلے بادشاہ اور اس کے اہل قرابت عمل کریں پھر رعایاء سے عمل کرائیں تب قانون چلتا ہے اگر خود عمل نہ کریں تو رعایا عمل نہ کرے گی جیسے آج دیکھا جارہا ہے کہ قانون فٹ بال(Foot Ball)بن کر رہ گئے ہیں۔دیکھو سرکار نے یہ دونوں قانون پہلے اپنے اور اپنے اہل قرابت پر جاری فرمائے۔ ۴۷؎ یہ ف عاطفہ ہے یعنی مال و خون کے معاملات میں ظلم نہ کرو،پھر اپنی بیویوں پر بھی زیادتی نہ کرو۔امان بمعنی امانت و عہد ہے یعنی تم نے انہیں اﷲ کی ضمانت پر اپنے نکاح میں لیا ہے۔کلمۃ اﷲ سے مراد اﷲ کا حکم ہے کہ فانکحو ھن یعنی اﷲ تعالٰی کے فرمان کے ماتحت تمہارے لیے وہ حلال ہوئی ہیں،ہمارے ہاں بوقت نکاح دولہا دلہن کو کلمہ پڑھاتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے تاکہ دونوں کا معاہدہ مضبوط رہے،کلمہ پڑھ کر عہد و پیمان کریں۔ ۴۸؎ یعنی تمہارے گھروں میں کسی ایسے کو نہ آنے دیں اور تمہارے بستروں پر کسی ایسے کو نہ بیٹھنے دیں جن کا آنا بیٹھنا تم ناپسند کر تے ہو۔فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت کے میکے والے حتی کہ اس کے ماں باپ بھی بغیر خاوند کی اجازت اس کے گھر نہ جائیں،اگر خاوند کا آنا اپنے گھر میں ناپسند کرے تو عورت انہیں نہ بلائے بلکہ میکے جاکر ان سے مل آئے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے،ہاں مرد عورت کو ماں باپ کے ملنے سے منع نہیں کرسکتا کہ اس میں قطعیت رحم ہے۔ ۴۹؎ یعنی انہیں اس قصور پر سزا دے سکتے ہو۔معلوم ہوا کہ مرد عورت کو سزاءً معمولی طور پر مارسکتا ہے کیونکہ مرد عورت کا حاکم ہے جیسے ماں،باپ،استاد اپنی اولاد شاگرد کو تنبیہًا مار پیٹ سکتے ہیں ایسے ہی خاوند بیوی کو مگر مار معمولی ہو اس لیے غیر مبرّح فرمایا کہ اس مار سے ایذاء مقصود نہیں اصلاح مقصود ہے۔ ۵۰؎ بھلائی سے روٹی کپڑے کے معنے یہ ہیں کہ خوشدلی سے دو ان کے خرچ کو بوجھ نہ سمجھو اور جیسا خود کھاؤ پہنو ویسا ہی انہیں کھلاؤ پہناؤ۔ ۵۱؎ یعنی میں جارہا ہوں اور قرآن کریم تم میں چھوڑے جاتا ہوں،اگر تم نے اپنے عقائد و اعمال اس کے مطابق رکھے تو گمراہ نہ ہوگے۔خیال رہے کہ پورے قرآن پر عمل ضروری اور قرآن شریف میں تو یہ حکم بھی ہے کہ اﷲ و رسول کی اطاعت کرو اور یہ بھی ہے کہ جس نے رسول اﷲ کی اطاعت کی،اس نے اﷲ کی اطاعت کی،لہذا سنت پر عمل لازم ہوا،اب یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ سنت پرعمل ضروری نہیں قرآن کافی ہے۔ ۵۲؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے ایمان کی گواہی دیں گے اور ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کی گواہی دیں گے،ہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تبلیغ کا کوئی بے ایمان انکار نہ کرسکے گا تاکہ پھر اس کی تحقیق کی جائے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیۡمِ"یہ سوال اور ہے اور جس سوال کی نفی ہے وہ اور سوال ہے۔ ۵۳؎ یعنی مولٰی تو ان کی گواہی کا گواہ ہوجا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا"رب تعالٰی احکم الحاکمین بھی ہے اور گواہوں کا گواہ بھی،ہر حاکم گواہوں کا گواہ ہوتا ہے لہذا یہ گواہی رب تعالٰی کی حاکمیت کے خلاف نہیں،بعض نسخوں میں ینکبھا ب سے ہے نکب بمعنی جھانکنا اور نکت ت سے بمعنی کریدنا۔ ۵۴؎ یہ جمع صلوتین ہے،عرفات میں ظہر و عصر ایک اذان اور دو تکبیروں سے ظہر کے وقت میں ادا کی جاتی ہے،ظہر کی سنتیں و نفل چھوڑ دی جاتی ہیں تاکہ عرفات پہاڑ پر جلد پہنچیں اور دعاؤں کے لیے کافی وقت ملے۔ لطیفہ معمہ: سوال: وہ کون سی جگہ ہے جہاں نفل کی وجہ سے فرض چھوڑ دیا جاتا ہے؟ جواب: وہ عرفات ہے جہاں نفل یعنی دعاؤں کی وجہ سے عصر کا وقت جو فرض ہے چھوڑ دیا جاتا ہے،امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاں یہ جمع صلوتین حج کی وجہ سے ہے،امام شافعی کے ہاں سفر کی وجہ سے مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ خود مکہ والے جو مسافر نہیں ہوتے وہ بھی یہاں جمع صلوتین کرتے ہیں اب امام مکہ معظمہ میں رہتا ہے مگر جمع کرتا ہے۔ ۵۵؎ حبل ریگ رواں کو کہتے ہیں جس پر رسیوں کی طرح سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں مشاۃ ماش کی جمع بمعنی چلنے والے،چونکہ ریگ کی وجہ سے یہاں سواری پر نہیں چل سکتے پیدل چلنا پڑتا ہے اس لیے اسے حبل مشاۃ کہتے ہیں۔یہ ایک میدان ہے عرفات شریف میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پتھریلے علاقہ پر اونٹنی کھڑی کی،اس طرح کہ ریگستانی خطہ حضور انورصلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے آگیا اور قبلہ کو آپ کا منہ ہوگیا،حجاج کو اس جگہ کھڑے ہونے کی کوشش کرنی چاہیے،شاید کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے قیام پر کھڑا ہونا نصیب ہوجائے۔ ۵۶؎ پہلے غائب ہونے سے مراد تھا سورج کا کچھ حصہ غائب ہونا اور اس غائب ہونے سے مراد ہے پورا سورج ڈوب جانا۔ بیان میں ترتیب نہیں کیونکہ زردی سورج ڈوب چکنے کےبعد غائب ہوجاتی ہے۔راوی نے غروب آفتاب کا ذکر دو بار کیا تاکید کے لیے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ غروب سے قریب غروب ہونا مراد ہے۔ ۵۷؎ یعنی آفتاب عرفات ہی میں غروب ہوگیا،اس کے بعد آپ مزدلفہ کی طرف اس طرح روانہ ہوئے کہ حضرت اسامہ ابن زید کو اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کرلیا۔مزدلفہ زلف بمعنی قریب سے ہے یا زَلَفٌ،بمعنی ہموار زمین سے،چونکہ یہ جگہ منٰے سے قریب ہے،نیز اسی جگہ حضرت آدم علیہ السلام و حوا علیھا السلام کی ملاقات کا قرب ہوا اور یہاں کی زمین ہموار ہے اس لیے اسے مزدلفہ کہتے ہیں۔مزدلفہ میں رات گزارنا ہمارے ہاں اور امام احمد کے ہاں سنت ہے،بعض شوافع کے ہاں فرض ہے۔(لمعات و اشعہ)بعض کے ہاں واجب۔ ۵۸؎ امام احمد و زفر کے ہاں یہ ہی طریقہ ہے،ہمارے ہاں یہ دونوں نمازیں ایک ہی اذان اورایک ہی تکبیر سے ہوں گی کیونکہ عرفات میں تو عصر وقت سے پہلے ہوئی تھی اسی لیے اس کی علیحدہ اطلاع ضروری تھی مگر یہاں عشاء اپنے وقت میں ہورہی ہے اس کی نئی اطلاع کی ضرورت نہیں۔مسلم و ترمذی نے حضرت ابن عمر سے ایک تکبیر کی روایت کی،ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح فرمایا۔(اشعہ) ۵۹؎ عشاء کی سنتیں و وتر و نفل پڑھ کر لیٹے اس لیے ثم ارشاد فرمایا اب بھی حاجی کو مزدلفہ میں پوری عشاء مع سنت وتر پڑھنا چاہیے۔(مرقات)مرقات نے فرمایاکہ سنت مغرب بھی پڑھنا بہتر ہے۔اس صورت میں یہاں نوافل اوابین کی نفی ہوگی۔ ۶۰؎ آپ ہمیشہ تو فخر اجیالے میں پڑھا کرتے تھے مگر آج مزدلفہ میں فجر اول وقت پو پھٹتے ہی پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ فجر اجیالے میں پڑھنا چاہیے،معلوم ہوا کہ مزدلفہ کی شب میں حاجی کو سونا سنت ہے اگرچہ عمومًا عید کی رات کو جاگنا بہتر ہے۔ ۶۱؎ مشعر حرام مزدلفہ میں ایک خاص جگہ کا نام ہے جہاں اب مسجد بنی ہوئی ہے۔یہ جگہ قزح پہاڑ کے قریب ہے اسی جگہ حاجی کو ٹھہرنا چاہیے۔ ۶۲؎ کفار مکہ سورج نکلنے کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہوتے تھے جب کہ پہاڑ کی چوٹی چمک جاتی تھی۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سورج نکلنے سے پہلے روانگی فرمائی اور یہاں سے حضرت فضل ابن عباس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ ۶۳؎ وادی محسر مزدلفہ و منٰی کے درمیان ایک جنگل ہے۔محسر کے معنی ہیں تھک جانے کی جگہ،رب تعالٰی فرماتا ہے:" خَاسِـًٔا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ"اصحاب فیل کا ہاتھی اس جنگل میں پہنچ کر تھک گیا تھااس لیے محسر کہتے ہیں،بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں ہی اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا اس لیے یہاں سے جلد گزرجانا چاہیے جیسے قوم ثمود و عاد کی زمین سے جلد گزرجانا چاہیے،بعض نے فرمایا کہ یہاں مشرکین ٹھہر جاتے تھے ان کی مخالفت میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم یہاں سے جلد گزرے ۔واﷲ اعلم(اشعہ) ۶۴؎ یعنی عرفات کو جاتے وقت اور راستہ اختیار کیا تھا واپسی پر دوسرا راستہ اختیار فرمایا،یہ راستہ جمرہ عقبہ پر نکلتا ہے۔معلوم ہوا کہ عرفات کو جاتے آتے علیحدہ راستے اختیار کرنا سنت ہے۔ ۶۵؎ یہ جمرہ عقبہ ہے شاید اس زمانہ میں یہاں کوئی درخت ہوگا اب وہاں کوئی درخت نہیں ہے،یہ جمرہ مسجد حنیف سے دور ہے مکہ معظمہ کی جانب ہے،آخری جمرہ ہے،چونکہ اس پہاڑ کے پیچھے ہے جہاں بیعت عقبہ ہوئی اسی لیے اسے جمرہ عقبہ کہتے ہیں۔ ۶۶؎ خذف کے لفظی معنے ہیں انگلیوں سے کنکر پھینکنا،یہ کنکر باقلا کے دانہ کے برابر تھے جو کلمہ کی انگلی اور انگوٹھے سے پکڑکرجمرہ(ستون)پر مارے جاتے تھے اب بھی ایسے ہی کنکر مارنا چاہئیں،بعض جہلا بڑے بڑے پتھر مارتے ہیں،بعض جوتے مارتے ہیں یہ غلط بھی ہے اور حماقت بھی۔ ۶۷؎ یعنی جمرہ کے سامنے کھڑے ہو کر ہموار زمین سے رمی کی جسے بطن وادی کہتے ہیں،اوپر کےحصہ سے رمی نہ کی،بطن وادی کا پتہ وہ جگہ دیکھ کر ہی لگتا ہے۔ ۶۸؎ قربانی گاہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قیام گاہ سے قریب ہی تھا مسجد حنیف کے قبلہ کی طرف جمرہ عقبہ سے قریب اگرچہ منٰی سارا ہی قربانی گاہ ہے مگر بہتر یہ ہے کہ حضور انور کی قربانی گاہ میں پہنچ کر کی جائے۔(ازمرقات) ۶۹؎ اس طرح کہ اپنی ہرقربانی میں حضر ت علی مرتضٰی کا بھی حصہ رکھا،یہ جناب علی کی بڑی عظمت ہے۔ ۷۰؎ یعنی حضرت علی مرتضیٰ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دیگچی سے بوٹیاں بھی کھائیں اور شوربا بھی پیا۔معلوم ہوا کہ اپنی قربانی کا گوشت کھانا سنت ہے،بعض نے واجب کہا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَکُلُوۡا مِنْہَا"۔ ۷۱؎ حق یہ ہی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ پہنچ کر زوال سے پہلے طواف زیارت کیا پھر وہاں ہی ظہر پڑھی۔جن روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی سے واپس ہوکر پڑھی وہاں راوی کو دھوکا ہوگیا وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل پڑھے علاوہ فرض ظہر کے،ورنہ ظہر غیر وقت مستحب میں پڑھنا لازم ہوگا،اب بھی مستحب یہ ہی ہے کہ دسویں ذی الحجہ کو ہی طواف زیارت کرے اور ظہر حرم شریف میں ہی پڑھے مگر یہ بمشکل میسر ہوتا ہے کہ اس دن کا م زیادہ ہوتے ہیں اور قربانی میں بہت دیر لگ جاتی ہے اکثر حجاج مکہ معظمہ میں پڑھتے ہیں۔ ۷۲؎ یہ لوگ حضرت عباس کی اولاد اور کچھ دوسرے حضرات تھے وہاں چاہ زمزم سے ہر شخص پانی نہیں بھرسکتا یہ بھی خاص لوگوں کا حق ہے۔ ۷۳؎ یعنی اگر ہم نے یہ پانی کھینچا تو یہ عمل سنت ہوجائے گا اور ہر شخص اس سنت پر عمل کرے گا تمہیں یہاں سے نکلنے پڑے گا اس لیے ہم خود نہیں کھینچتے۔ ۷۴؎ آپ نے کھڑے کھڑے ہی ڈول سے زمزم پیا،بقیہ پانی چاہ زمزم میں ڈال دیا گیا،اب اس پانی میں دو برکتیں ہیں: ایک تو حضرت ذبیح اﷲ کے پاؤں شریف کا دھوون ہے اور دوسرے حبیب اﷲ کا پیا ہوا پانی اس میں ہے،مبارک ہیں وہ جنہیں اس کا پینا نصیب ہو۔ ۷۵؎ یہ حدیث ابن ابی شیبہ،ابوداؤد،نسائی،عبد ابن حمید بزاز،دارمی نے بھی حضرت امام جعفر صادق عن ابیہ عن جابر روایت کی۔