۱؎ یعنی جب مشرکین لا شریك لك پر پہنچتے تو سرکار فرماتے بس اسی پر رہو آگے شرکیہ لفظ نہ بولو یعنی الا شریکا الخ نہ کہو،مگر وہ کب باز آتے تھے۔
۲؎ ایک شریک سے مراد ایک قسم کا شریک ہے اس سے وہ اپنے سارے بت مراد لیتے تھے،ان بتوں کو وہ خدا کا بندہ بھی مانتے تھے اور اس کا مملوک بھی،پھر خدا کی برابر و مثل بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:" اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"گویا یہ بت ان کے عقیدے میں پارلیمنٹ کے ممبر تھے کہ رب تعالٰی ان کی مدد کے بغیر اکیلا دنیا کا انتظام فرماسکتا ہی نہ تھا اور بعض مشرکین فرشتوں کو رب کی بیٹیاں مانتے تھے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ بتوں کو رب کا بندہ اور مملوک مانتے تھے تو مشرک کیوں تھے،کوئی مسلمان کسی نبی ولی کو الٰہی پارلیمنٹ کا نہ ممبر مانتا ہے نہ رب کی اولاد بلکہ کہتا ہے عبدہ ورسولہ اس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن"ملاحظہ فرمائیے۔