Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
168 - 671
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر168
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان فرمایا ۱؎ پھر لوگ جمع ہوگئے پھر جب میدان میں پہنچے تو احرام باندھا ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ سارے عرب میں اپنے حج کا اعلان فرمایا کہ ہم فلاں تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہورہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حج وہ عبادت ہے جس کا اعلان کرنا افضل ہے تاکہ دوسروں کو بھی شوق ہو اور لوگ آکر اس سے دعا وغیرہ کرالیں،حرمین شریفین کو تحفے صدقے،دانہ اس کی معرفت بھیج دیں آج کل جو رواج ہے کہ حاجی کو جلوس کی شکل میں اسٹیشن پہنچانے جاتے ہیں،گلے میں ہار پھول ڈالتے ہیں ان تمام کاموں کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ یہ سب اعلان کی صورتیں ہیں۔

۲؎ یوں تو بیداء ہر میدان کو کہتے ہیں مگر یہاں ذوالحلیفہ کا خاص میدان ہے۔احرام کے معنی ہیں حضور علیہ السلام نے یہاں اپنے احرام کا اظہارفر مایا ورنہ اصل احرام تو مسجد ذوالحلیفہ میں بندھ چکا تھا جیسا کہ پچھلی روایتوں میں گزر چکا۔
Flag Counter