۱؎ سارے عرب میں اپنے حج کا اعلان فرمایا کہ ہم فلاں تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہورہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حج وہ عبادت ہے جس کا اعلان کرنا افضل ہے تاکہ دوسروں کو بھی شوق ہو اور لوگ آکر اس سے دعا وغیرہ کرالیں،حرمین شریفین کو تحفے صدقے،دانہ اس کی معرفت بھیج دیں آج کل جو رواج ہے کہ حاجی کو جلوس کی شکل میں اسٹیشن پہنچانے جاتے ہیں،گلے میں ہار پھول ڈالتے ہیں ان تمام کاموں کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ یہ سب اعلان کی صورتیں ہیں۔
۲؎ یوں تو بیداء ہر میدان کو کہتے ہیں مگر یہاں ذوالحلیفہ کا خاص میدان ہے۔احرام کے معنی ہیں حضور علیہ السلام نے یہاں اپنے احرام کا اظہارفر مایا ورنہ اصل احرام تو مسجد ذوالحلیفہ میں بندھ چکا تھا جیسا کہ پچھلی روایتوں میں گزر چکا۔