Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
167 - 671
حدیث نمبر167
روایت ہے حضرت عمارہ ابن خزیمہ ابن ثابت سے وہ اپنے والد سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اﷲ سے اس کی رضا اور جنت مانگتے اور اس کی رحمت کے وسیلہ سے آگ سے پناہ مانگتے تھے ۲؎(شافعی)
شرح
۱؎ عمارہ تابعی ہیں ان کے والد خزیمہ ابن ثابت مشہور صحابی ہیں،انہی کی گواہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو گواہیوں کے برابر قرار دی تھی،آپ جنگ صفین میں حضر ت علی کے ساتھ تھے،اسی جنگ میں شہید ہوئے۔(مرقات)

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تلبیہ کے الفاظ ادا فرما کر پھر یہ دعائیں آہستہ مانگتے تھے اسی لیے علماء فرماتےہیں کہ حاجی تلبیہ کہہ کر آہستہ آواز سے درود شریف پڑھے،پھر یہ دعائیں مانگے اور ہر بار تین دفعہ تلبیہ کہے مسلسل کہے جن میں دنیاوی بات کا فاصلہ نہ ہو۔تلبیہ کہنے والے کو کوئی سلام بھی نہ کرے۔
Flag Counter