۱؎ یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے کہ جبریل نے مجھے حکم پہنچایا خود حکم دیا نہیں بلکہ حکم الٰہی بطور قاصد پہنچایا کیونکہ حضرت جبرئیل حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم خاص اور پیغام رساں ہیں،خدام حکم دے نہیں سکتے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کے نبی مطاع ہیں حضور انہیں حکم دیں گے اسی لیے جبرئیل امین خود صحابہ سے نہیں کہتے تھے کہ میں جبرئیل تمہیں یہ حکم دیتا ہوں،بلکہ حضور سے کہلواتے تھے۔
۲؎ شک راوی کو ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اھلال فرمایا یا تلبیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو شک نہیں ہے۔اصحاب سے مراد ساری امت کے مرد ہیں،عورتوں کو اونچی آوا زسے تلبیہ کہنا منع ہے،وہ اتنی پست آواز سے کہیں کہ خود اپنی آوا زسن سکیں،مرد بھی اتنی اونچی آواز نہ کریں کہ مشقت میں پڑھ جائیں بلکہ درمیانی اونچی آواز سے کہیں۔ (مرقات)یہ بلند آواز سنت ہے جس کا ثواب زیادہ ہے اگر پست آواز سے کہیں تو گنہگار نہیں ہاں ثواب کم ہوجائے گا۔