۱؎ اس طرح کہ حاجی کے قریب کے درخت و پتھراور کنکر تلبیہ کہتے ہیں۔ان سے سن کر ان کے قریب کے کنکر پتھر وغیرہ ان سے سن کر ان کے قریب کے یہاں تک کہ ساری دنیا کے کنکر پتھر ڈھیلے تلبیہ کا شور مچاتے ہیں۔یہ تلبیہ بزبان قال کہتے ہیں صر ف زبان حال سے نہیں،اﷲ نے پتھر لکڑیوں میں احساس بھی دیا ہے،گویائی بھی بخشی ہے جس سے وہ رب تعالٰی کی تسبیح کرتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"بلکہ بزرگانِ دین نے ان کی تسبیح وغیرہ سنی بھی ہیں۔(مرقات)مولانا فرماتے ہیں۔شعر
نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہلِ دل
فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان چیزوں کا تلبیہ سنتے تھے۔