۱؎ یہاں تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی ایک سفر میں حج و عمرہ سے فائدہ اٹھانا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ کا احرام باندھا،پھر عمرہ کرنے سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا اور قران فرمالیا لہذا یہ حدیث عبداﷲ مزنی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یوں تلبیہ فرماتے سنا لَبَّیْكَ عُمْرَۃً وَ حَجًّا۔امام ابن حزم نے ایک مستقل کتاب اس بارے میں لکھی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قران فرمایا۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں قران افضل ہے،امام شافعی کے ہاں افراد بہتر،امام احمد کے ہاں تمتع افضل،یہ اختلاف اس بنا پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کونسا حج کیا جن امام کے ہاں جس حج کا ثبوت ہوا انہوں نے اسی کوافضل کہا،ہمارے ہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قران کا ثبوت ہے لہذا وہ ہی افضل ہے،مذہب حنفی قوی ہے(از مرقات ولمعات)
۲؎ عمرہ کرنے سے پہلے ہی لہذا قران کیا۔