| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ۱؎ اور ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کا احرام باندھا تھا ۲؎ تو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو کھل گئے ۳؎ لیکن جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ جمع کیا تھا وہ دسویں تاریخ تک نہ کھلے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مرقات نے اَھَلَّ کے معنی کئے لبَّی یعنی،بعض لوگ تلبیہ میں حج کا نام لے رہے تھےاور بعض صرف عمرہ کا اور بعض حج و عمرہ دونوں کا مگر احرام عمومًا سب کا حج و عمرہ دونوں کا تھا یعنی قران کا اور ہوسکتا ہے کہ اَھَلَّ کے معنی احرام باندھنا ہوں یعنی بعض صحابہ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ وہ حج اس سے پہلے سال کرچکے تھے یا انہوں نے تمتع کیا ہو۔ ۲؎ خیال ر ہے کہ بعض راویوں نے حضور سے صرف عمرہ کی روایت کی ہے بعض نے صرف حج کی،بعض نے حج و عمرہ دونوں کی،حضرت ام المؤمنین نے یہاں صرف حج کی روایت کی،وجہ یہ ہے کہ حضور انور نے قرآن کیا تھا لہذا آپ تلبیہ میں کبھی صرف حج کا نام لیتے تھے کبھی صرف عمرہ کا اور کبھی حج و عمرہ دونوں کا جیساکہ قارن کو اختیار ہے،ہر راوی نے جو سنا اسی کی روایت کی لہذا احادیث میں تعارض نہیں لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور نے افراد کیا تھا جیساکہ شوافع نے سمجھا اور نہ یہ امام اعظم کے خلاف ہے۔ ۳؎ طواف و سعی کر کے عمرہ سے کھل گئے،پھر بعد کو حج کا احرام باندھا اس درمیان میں حلال رہے۔ ۴؎ یعنی جن حضرات نے اول ہی سے حج و عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ اور جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا بعد میں عمرہ بھی شامل فی الاحرام کرلیا تھا وہ یہ دونوں قسم کے حضرات دسویں ذی الحجہ کو احرام سے فارغ ہوئے،جمرہ عقبہ کی رمی کرکے سوائے عورتوں کے تمام چیزیں انہیں حلال ہوگئیں اور طواف زیارت کر کے بیوی سے صحبت بھی حلال ہوگئی۔