۱؎ حضرت ابوطلحہ جناب انس کے سوتیلے والد ہیں،ایک گھوڑے یا اونٹ پر دوشخص سوار ہوں تو پیچھے والے کو ردیف کہا جاتا ہے یعنی میں اپنے والد کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار تھا۔
۲؎ یعنی خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ تلبیہ میں حج و عمرہ دونوں میں تلبیہ کا نام پکارتے تھے"لبیك اللھم لبیك بالحج والعمرۃ "۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور عام صحابہ کرام نے حجۃ الوداع میں قران کیا اور قران افرادو تمتع دونوں سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ قارن تلبیہ میں بار بار حج و عمرہ کا نام لے یہ ہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں افراد قران سے افضل ہے اور صرف پہلے تلبیہ میں حج و عمرہ کا ذکر کرے پھر نہیں،یہ حدیث ان کے مخالف ہے امام اعظم کی مؤید ہے۔