۱؎ یعنی حضور علیہ السلام نے ذوالحلیفہ(بیرعلی)پہنچ کر احرام کے نفل ادا کیے،پھر مکہ کی طرف روانگی کے لیے اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے،جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوگئی۔
۲؎ یہ دوسری بار تلبیہ کہا پہلی بار نفل پڑھتے ہی کہا تھا کیونکہ احرام کے نفل پڑھتے ہی تلبیہ کہنا چاہیے،پھر بار بار کہتا رہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،نہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے جن میں فرمایا گیا کہ آپ نے بعد نفل بیٹھے ہوئے تلبیہ کہا۔
۳؎ بیہقی و ترمذی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے احرام کے نفل پڑھتے ہی تلبیہ ہی کہا اسے بیہقی نے توضعیف کہا مگر ترمذی نے حسن فرمایا،ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے ان دونوں حدیثوں کی تطبیق یوں روایت کی،بعض لوگوں نے حضور کا نفل کے بعد والا تلبیہ سنا انہوں نے وہ روایت کردیا اور دوسروں نے ناقہ پر سوار ہوتے وقت کا تلبیہ سنا انہوں نے وہ روایت کردیا،دونوں وقت تلبیہ کہنا سنت ہے۔(ازمرقات)امام شافعی کے ہاں پہلے تلبیہ اونٹ پر سوار ہوکر کہے،امام اعظم کے ہاں نفل سے فارغ ہوتے ہی کہے،امام مالک و احمد،امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کے ساتھ ہیں،یہ ہی عمل بہتر ہے۔(لمعات)