۱؎ یھل اھلال سے بنا بمعنی چیخنا،شورمچانا،لغوی معنی ہیں چاند دکھانا مگر چونکہ چاند دکھاتے وقت شور مچاتے ہیں کہ وہ ہے چاند اس لیے اب اس کے معنی ہیں چلانا۔ملبدتلبید سے بنا بمعنی بال چپکانا کسی گوند وغیرہ سے تاکہ بال نہ اڑیں اور ان میں گردو غبار نہ بھرے،امام شافعی کے ہاں بحالت احرام تلبید جائز ہے،امام اعظم کے ہاں ممنوع کہ یہ سر ڈھکنے کے حکم میں ہے،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،اما م اعظم کے ہاں یہ تلبید لغوی معنی میں ہے یعنی بالکل مطلقًا جمع کرلینا،انہیں پریشان نہ رکھنا۔
۲؎ لبیك کا ترجمہ ہے حاضر جناب،یہ لفظ کسی پکارنے والے کے جواب میں بولا جاتا ہے،پکارنے والے حضرات ابراہیم خلیل اﷲ تھے کہ انہوں نے تعمیر کعبہ کے بعد چار آوازیں رب تعالٰی کے حکم سے دی تھیں"عباداﷲ تعالوا الی بیت اﷲ"اے اﷲ کے بندو اﷲ کے گھر کی طرف آؤ،حاجی احرام باندھ کر اس پکار کا جواب دیتا ہوا جاتا ہے کہ حاضر جناب حاضر جناب،بعض نے فرمایا کہ پکارنے والے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں،بعض نے فرمایا کہ خود رب تعالٰی ہے مگر پہلی بات قوی ہے۔(مرقات)
۳؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اوقات تلبیہ میں ان الفاظ پر زیادتی نہ فرماتے تھے کبھی زیادتی بھی فرماتے تھے،امام طحاوی کے ہاں زیادتی کرنا مکروہ ہے اسی بنا پرمگر دوسرے اماموں کے ہاں زیادتی جائز بلکہ مستحب ہے۔چنانچہ صحابہ و تابعین تلبیہ یوں کہتے تھے لَبَّیْكَ وَ سَعَدَیْكَ وَالْخَیْرُ کُلَّہٗ فِی یَدَیْكَ وَالرُّغَبَاءُ اِلَیْكَ وَالْعَمَلُ لَكَ لَبَّیْكَ اور بہت زیادتیاں فرماتے تھے جیساکہ کتب احادیث میں موجود ہے،ہاں منقولہ الفاظ سے کمی کرنا مکروہ ہے،مرد کو تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہیے اورعورت کو آہستہ آواز سے۔