۱؎ ایک حاجی یا حاجیوں کی جماعت سے کہ حاج دونوں پر بولا جاتا ہے۔(اشعہ)مراد وہ ہے جو حج کرکے واپس وطن آیا،عمر ہ یا زیارت مدینہ منورہ کرنے والا،غازی طالب علم بھی اسی حکم میں ہیں۔(مرقات)ان سب سے دعا کرانا چاہیے۔
۲؎ یعنی کوشش کرو کہ تم ہی سلام و مصافحہ کی ابتداء کر و،اگر حاجی غریب ہے اور تم امیرتو اسے سلام و مصافحہ کرنے میں اپنی توہین محسوس نہ کرو۔
۳؎ اور ابھی اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے کہ گھر میں نہیں پہنچتا ہے،سفر ختم نہیں کیا ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی کے آتے جاتے ہوئے راستہ کے گناہ بھی معاف ہیں،گھر میں آکر گناہ شروع ہوں گے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مغفور لوگوں سے دعا کرانی چاہیے لہذا اولیاء اﷲ اور چھوٹے بچوں سے دعا کر انی چاہیے۔