Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
154 - 671
حدیث نمبر154
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو حاجی یا غازی یا عمرہ کرنے والا ہو کر نکلا پھر راستہ میں مر گیا ۱؎  تو  اس کے لیے غازی،حاجی اور عمرہ والے کا ثواب لکھ دیا گیا ۲؎ (بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی جاتے ہوئے مرگیا،حج یا عمرہ یا غزوہ نہ کرسکا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎ اس کی تائید اس آیت سے ہے "وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ"جو اپنے گھر سے مہاجر ہو کر نکلا پھر اسے موت آگئی تو اس کا ثواب اﷲ کے ذمہ کرم پر ثابت ہوگیا مگر جو حج فرض ہونے کے بعد برسوں حج کو نہ گیا،پھر بڑھاپے میں گیا اور راہ میں مرگیا تو وہ ضرور اس دیر لگانے کا گنہگار ہے۔یہ حدیث اس کے لیے ہے جو بلا عذر حج میں دیر نہ لگائے کیونکہ حج فورًا  ادا کرناچاہیئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ شخص بھی دیر لگانے کا گنہگارہو  مگر اس کا یہ حج ہوجائے اﷲ تعالٰی کریم ہے۔(مرقات)
Flag Counter