۱؎ یعنی جاتے ہوئے مرگیا،حج یا عمرہ یا غزوہ نہ کرسکا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس کی تائید اس آیت سے ہے "وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ"جو اپنے گھر سے مہاجر ہو کر نکلا پھر اسے موت آگئی تو اس کا ثواب اﷲ کے ذمہ کرم پر ثابت ہوگیا مگر جو حج فرض ہونے کے بعد برسوں حج کو نہ گیا،پھر بڑھاپے میں گیا اور راہ میں مرگیا تو وہ ضرور اس دیر لگانے کا گنہگار ہے۔یہ حدیث اس کے لیے ہے جو بلا عذر حج میں دیر نہ لگائے کیونکہ حج فورًا ادا کرناچاہیئے اور ہوسکتا ہے کہ یہ شخص بھی دیر لگانے کا گنہگارہو مگر اس کا یہ حج ہوجائے اﷲ تعالٰی کریم ہے۔(مرقات)