۱؎ جو اﷲ تعالٰی کے گھر جارہے ہیں رب سے ملنے جارہے ہیں اور سلطان اپنے ملاقاتیوں کی بات مانتا ہے،ان کی سفارش قبول کر تا ہے اس لیے یہ لوگ بھی مقبول الدعا ہیں۔ان شاءاﷲ!
۲؎ مسلمانوں کا طر یقہ ہے کہ حجاج کو پہنچنانے،وداع کرنے اور واپسی پر ان کا استقبال کرنے کے لیے اسٹیشن تک جاتے ہیں ان سے دعا کراتے ہیں۔یہ اس حدیث پر ہی عمل ہے کہ حاجی گھر سے نکلتے ہی مقبول الدعا ہے اور واپس گھر میں داخل ہونے تک مستجاب الدعوات رہتا ہے۔خیال رہے کہ حاجی کو حوسر صلی اللہ علیہ و سلم نے واحد فرمایا اور عمرہ کرنے والوں کو جمع تاکہ پتہ لگے کہ عمرہ والے سے حج والے کا درجہ زیادہ ہے کہ ایک حاجی عمرہ والوں کی جماعت کے برابر ہے کیوں نہ ہو کہ حج فرض ہے اور عمرہ سنت،یہ ہی مذہب احناف ہے۔