Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
150 - 671
حدیث نمبر150
روایت ہے حصرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کو حج سے کوئی ظاہری ضرورت ہے یا  ۱؎ ظالم بادشاہ  ۲؎  یا روکنے والی بیماری نہ روکے ۳؎ پھر وہ حج کئے بغیر مرجائے تو چاہے یہودی ہو کر مرے اور چاہے عیسائی ہوکر مرے ۴؎(دارمی)
شرح
۱؎ جیسے فقیری یعنی توشہ و سواری پر قدرت نہ ہو نا کہ ہر دونوں چیزیں وجوب حج کی شرطیں ہیں۔

۲؎ یا تو خود اپنے ملک کا بادشاہ ظالم ہو کہ ظلمًا حج کو جانے کی اجازت نہ دیتا ہو یا راستہ میں کسی سلطان کی حکومت ہو وہ حجاج کو گزرنے نہ دیتا ہو یا مکہ معظمہ کا بادشاہ ظالم ہو کہ حجاج کو داخل نہ ہونے دے۔ان تینوں صورت میں راستہ کا امن مفقود ہے اور راستہ کا امن وجوب ادائے حج کی شرط ہے۔ظالم کی قید سے معلو م ہوا کہ اگر بادشاہ حجاج کو مہربانی و محبت سے روکے تو  اس کا  اعتبار نہیں حج فرض ہوگا۔(مرقات)

۳؎  بیماری سے وہ بیماری مراد ہے جو سفر سے مانع ہو۔تندرستی بعض کے نزدیک شرط وجوب ہے اور بعض کے ہاں شرط ادا،پہلی صورت میں بیمار کی طرف سے حج بدل کرانا لازم ہوگا دوسری صور ت میں نہیں ،ہمارے امام صاحب کاہاں شرط ادا ہے کہ اگر کسی کے پاس مال سخت بیماری یا معذوری کی حالت میں آیا اس پر حج فرض نہیں ۔(مرقات)

۴؎ یعنی اس کی موت یہود و نصاریٰ کی سی ہے کہ وہ لوگ کتاب اﷲ پڑھتے تھے مگر عمل نہ کرتے تھے ایسے ہی یہ قرآن شریف پڑھتا رہا اور حج کی آیت پر بلا عذر عمل نہ کیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بدعملی فسق ہے کفر نہیں،پھر اس کی موت کو یہودیوں عیسائیوں کی موت کیوں فرمایا۔
Flag Counter