۱؎ یا تو یہ لوگ بالکل ہی توشہ ساتھ نہ لاتے تھے مانگتے کھاتے آتے تھے یا اس قدر تھوڑا توشہ لاتے تھے جو راستہ میں ہی خرچ ہوجاتا اور مکہ معظمہ پہنچ کر بے خرچ رہ جاتے،وہ اپنے کو متوکل کہتے تھے مگر درحقیقت متاکل تھے یعنی مانگنے والے وہ کہتے تھے کہ ہم اﷲ کے گھر جارہے ہیں،اس کے مہمان ہیں،مہمان ساتھ کھانا کیوں لائے۔
۲؎ بلکہ جب بھیک مانگنے سے کام نہ چلتا تو چوری ڈکیتی کر تے تھے۔(مرقات)یہ غلط توکل آج بھی بعض نکموں کے دل میں سمایا ہوا ہے کہ بکابر رہنے بھیک مانگنے کو توکل کہتے ہیں حالانکہ توکل کے معنی یہ ہیں۔شعر
گر توکل مے کنی دو کارکن کسب کن پس تکیہ برجبار کن
۳؎ یعنی دنیا میں حج وغیرہ کے موقعہ پر بقدر ضرورت توشہ تو ساتھ لو،یہ توشہ توکل کے خلاف نہیں۔پرہیزگاری اسی میں ہے کہ بھیک،چوری،ڈکیتی،قرض اور غضب سے بچا جائے۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ دنیا کے سفر کا توشہ مال ہے اور آخرت کے سفر کا توشہ نیک اعمال،رب تعالٰی تک پہنچنے کا توشہ کمال۔