Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
147 - 671
حدیث نمبر147
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک حج یا عمرہ کا احرام باندھے  ۱؎ تو  اسکے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎
شرح
۱؎ اس طرح کہ پہلے بیت المقدس کی زیارت کرے،پھر وہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ حاضر ہو کر حج یا عمرہ کرے۔

۲؎  یہ شک راوی کا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مغفرت کا وعدہ فرمایا یا جنت کی عطاء کا ۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر دور سے احرام بندھے گا اسی قدر زیادہ ثواب ملے گا۔خیال رہے کہ اشھر حرم سے پہلے حج کا احرام باندھنا ہمارے ہاں مکروہ ہے۔امام شافعی کے ہاں وہ احرام عمرہ کا ہوجائے گا یا بندھے گا ہی نہیں مگر میقا ت سے پہلے حج کا احرام باندھ لینا حتی کہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر نکلنا افضل ہے بشرطیکہ احرام کی پابندیاں پوری کرسکے الشھر حج یعنی حج کے مہینہ شوال،ذیقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے ہیں کل دو ماہ دس دن۔ 

۳؎ حاکم نے مستدرک میں عبداﷲ ابن سلمہ مری سے روایت کیا۔حضرت علی سے کسی نے اس آیت کے متعلق پوچھا "وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ"کہ حج و عمرہ کا پورا کرنا کیا ہے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھ کر نکلو،مشکوۃ کی اس حدیث کو بیہقی وغیرہ نے بھی روایت کیا،امام نووی نے فرمایا کہ یہ حدیث قوی نہیں،دیگر محدثین نے فرمایا حسن ہے،غرضکہ یہ حدیث حسن لغیرہ ہے اور دونوں کلاموں میں تعارض نہیں۔
Flag Counter